اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

15 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر سٹاک مارکیٹ دوبارہ مندی کا شکار، سرمایہ کاروں کے اربوں ڈوب گئے

datetime 4  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کئی روز سے جاری تیزی کا تسلسل ٹوٹ گیا اور کاروباری ہفتے کے آخری روز مندی کا رجحان غالب رہا جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس165.11پوائنٹس کی کمی سے42188.11پوائنٹس کی سطح پرآ گیاجب کہ53.46فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں

10ارب 17کروڑ88لاکھ روپے کی کمی ہوئی اور حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی جمعرات کی نسبت 17.55فیصد کم رہا۔گزشتہ روز توانائی شعبے میں گردشی قرضے بڑھنے،اگست میں ملکی برآمدات میں کمی اور بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں میں منفی رجحان کے باعث ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط طرز عمل اپنایا گیا جس کے باعث اتار چڑھاوٗ دیکھنے میں آیا اورٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس 42290پوائنٹس کی بلند اور 41922پوائنٹس کی نچلی پر آگیاتاہم مجموعی طور پر مندی غالب آگئی کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس165.11پوائنٹس کی کمی سے42023پوائنٹس کی سطح پربند ہوا اسی طرح کے ایس ای30انڈیکس 113.16پوائنٹس کی کمی سے17918.63پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس31.60پوائنٹس کی کمی سے 29748.90پوائنٹس پر بند ہوا۔ گزشتہ روز419کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں 180کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 224میں کمی اور15میں استحکام رہا۔مندی کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت بھی گھٹ کر78کھرب 54ارب88کروڑ53لاکھ روپے ہوگئی۔حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاوٗ کے لحاظ سے یونی لیور فوڈز367روپے کے اضافے سے12500روپے اوررفحان میظ92.50روپے کے اضافے8192.50روپے ہوگئی جب کہ نیسلے پاکستان65روپے اورجے ڈی شوگر18.37روپے کی کمی سے باالترتیب 6310اور226.63 روپے ہوگئی۔گزشتہ روز 15 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر سٹاک مارکیٹ دوبارہ مندی کا شکار ہو گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…