اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

صنعتکاروں نے وزیراعظم سے صنعتوں کو تباہی سے بچانے کی اپیل کردیکرونا سے صنعتیں پہلی ہی بحران سے دوچار ہیں،بجلی کے بغیر فیکٹریاں کیسے چلائیں؟صنعتیں بندہونے سے ورکرز بے روزگار ہوئے توذمہ دار کےکون ہو گا ؟ اعلان کر دیا گیا 

datetime 25  جون‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ( نکاٹی) کے سرپرست اعلیٰ کیپٹن اے معیز خان اور صدر نسیم اخترنے صنعتوں میں8گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے لیے کے الیکٹرک کو بلاتعطل صنعتوں کو بجلی کی فراہمی کی ہدایت کی جائے۔ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ

کے الیکٹرک نے فرنس آئل کی کمی کا بہانہ بنا کرنارتھ کراچی صنعتی علاقے میں 8 گھنٹے بجلی بند کرنے کی دھمکی دی ہے جبکہ کے الیکٹرک کی 80فیصد بجلی کی پیداوار قدرتی گیس اورآر ایل این جی پر منحصر ہے اس کے باوجود سوئی سدرن گیس کا فرنس آئل کابہانہ بنا کراور جان بوجھ کر صنعتوںمیں طویل لوڈشیڈنگ کراچی کی صنعتوں کو تباہ وبرباد کرنے کی سازش لگتاہے۔نکاٹی کے رہنماؤںنے کہاکہ توانائی صنعتوں کی بنیادی ضرورت ہے اورجب بجلی نہیں ملے گی تو صنعتی پہیہ کیسے گھومے گا لہٰذا بجلی نہ ملنے کی وجہ سے اگر صنعتیں بند ہوئیں او راس کے نتیجے میں لوگ بے روزگار ہوئے تواس کی تمام تر ذمہ داری کے الیکٹرک پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہاکہ ایک ہفتہ پہلے ہی کے الیکٹرک حکام نے صنعتوں میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا یقین دلایا تھا لیکن پھر اچانک ایک گھنٹے کے نوٹس پر لوڈ شیڈنگ کے نئے شیڈول کا بم گرادیا گیا حالانکہ نارتھ کراچی صنعتی ایریا میں پہلے ہی ہر 2گھنٹے بعد غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور اب 8گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ سے فیکٹریوں میںرات11بجے سے صبح6بجے والی شفٹ ختم کرنی پڑے گی جس سے 35فیصد پیداوار متاثر ہو گی اور برآمدات پر بھی اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے جبکہ بڑی تعداد میں ورکرز روزگار سے محروم ہوجائیں گے۔انہوں نے مزید کہاکہ صنعتیں پہلے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیںاور بربادی کی طرف جارہی ہیں۔برآمدکنندگان کوبڑی مشکل سے کچھ برآمدی آرڈرز ملے ہیں تاہم پیداواری سرگرمیاں رکنے سے برآمدی آرڈرز کی تکمیل خطرے میں پڑ گئی ہے۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ وہ  اس کا نوٹس لے کر صنعتکاروں کا دیرینہ مسئلہ حل کرائیں اور ملکی معیشت کو تباہ ہونے سے بچائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…