پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان، سرمایہ کاروں کو اربوں کا نقصان، کاروباری حجم انتہائی مایوس کن

  جمعہ‬‮ 21 فروری‬‮ 2020  |  21:05

کراچی (این این آئی) پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو بھی مندی چھائی رہی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس مزید232.43کی کمی سے 40249.22پوائنٹس کی سطح پرآگیاجب کہ 47.51فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈکی گئی جس کے سبب سرمایہ کاروں کو33ارب17کروڑ13لاکھ وپے کا نقصان اٹھاناپڑا او کاروباری حجم بھی مایوس کن رہا۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیاجس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس40527پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیاتاہم بعد ازاں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کا


دباؤ بڑھ گیا جس کے باعث تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور مارکیٹ میں مندی چھاگئی جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 40171پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا بعد میں معمولی ریکوری آئی لیکن مندی غالب رہی اورمارکیٹ کے اختتام پرکے ایس ای 100انڈیکس232.43کی کمی سے 40249.22پوائنٹس پر بند ہوا۔اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس123.71پوائنٹس کی کمی سے18597.97پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس122.87پوائنٹس کی کمی سے27895.15پوائنٹس پر بند ہوا۔گزشتہ روز مجموعی طور پر326کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے131کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 172میں کمی اور23میں استحکام رہا ۔بیشتر کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گرنے کے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں 33ارب17کروڑ13لاکھ وپے کی کمی ہوئی جس کے نتیجے میں مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ گھٹ کر75کھرب 30ارب97کروڑ14لاکھ روپے ہوگیا۔کاروباری حجم بھی صرف8کروڑ55لاکھ97ہزار شیئرز کی لین دین تک محدود رہا۔ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے لحاظ سے یونی لیور فوڈزکے حصص کی قیمت150روپے کے اضافے سے بڑھ کر7500روپے اورفلپ موریس کے حصص 90روپے کے اضافے سے 2488.85روپے ہوگئی جب کہ سیپ ہائر ٹیکس اورسیپ ہائر فائبر کے حصص کی قیمتوں میں باترتیب61.72روپے اور48.94روپے کی کمی ہوئی جس سے سیپ ہائر ٹیکس کے حصص کی قیمت887.95روپے اورسیپ ہائر فائبرکے حصص کی قیمت707.01روپے ہوگئی۔نمایاں کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے،میپل لیف،کوٹ ادو پاور، فوجی فوڈز،یونٹی فوڈز،ڈی جی خان سیمنٹ، ہیسکول پٹرول،ال شہیر کارپوریشن،بینک آف پنجاب،ایگری ٹیک لمیٹیڈ اور فوجی سیمنٹ کے شیئرز نمایاں رہے۔


موضوعات: