اسٹیٹ بینک پاکستان کے ذخائر 8ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے کتنے ارب ڈالر قرض کی منظوری دیدی

  جمعہ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2019  |  12:28

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کے لیے قرض کی منظوری بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے دی گئی، پاکستان کو خصوصی پالیسی کی بنیاد پر قرض کی رقم فوری طور پر ادا کی جائے گی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے وسط سے پیدا ہونے والی مالی خرابیوں کو استحکام دینے کے لیے قرض جاری کر رہے ہیں۔دوسری جانب تجارتی خسارہ میں کمی، ادائیگیوں کے توازن ، غیر ملکی قرضوں میں کمی


اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ، گزشتہ 8ماہ کی بلند ترین پہنچ گئے۔ ٹریس مارک کے تجزیہ کار یعقوب ابوبکر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے تجارتی خسارہ میں کمی اور ادائیگیوں کے توازن کیساتھ ساتھ واجب الادا قرضوں کے حجم میں کمی اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں ہفتہ کے دوران پاکستان نے سکوک بانڈز کی میچورٹی پر بغیر کسی غیر ملکی امداد کے ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی ہیں جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے معاشی استحکام کا بہتر پیغام گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں قومی معیشت میں مزید بہتری کے واضح امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ سے عالمی برادری میں پاکستان کی تیزی سے مستحکم ہوتی ہوئی معیشت کے حوالے سے بہتر تشخص ابھرا ہے جس سے پاکستانی روپے میں مزید استحکام آئے گا اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جولائی تا نومبر 2019 کے دوران جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 1.5 ارب ڈالر رہا ہے اور جون 2019 ء کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں 5.6 فیصد کی بہتری معاشی استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔ ادھر ٹاپ لائن سیکورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ پاکستانی روپے اور ملک میں سرمایہ کاری کے کلچر کے حوالے سے خوش آئندہے۔ انہوں نے کہا کہ شارٹ ٹرم ٹریڑری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں سرمایہ کاری رواں مالی سال کے دوران ایک ارب ڈالر سے بڑھی ہے جو شرح سود میں کمی اور پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام کی بنیاد ثابت ہوگی۔


موضوعات: