منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت ادارتی فریم ورک کو بہتر بنانے کیلئے عالمی بینک سے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منتظر

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت پالیسی اور ادارتی فریم ورک کی استعداد کار بڑھا کر مالی انتظام میں بہتری لانے کے لیے عالمی بینک سے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منتظر ہے۔ رپورٹ کے مطابق فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پائیدار معشیت سے متعلق حکومتی منصوبہ (رائز) معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھنے میں حکومت کو مدد فراہم کریگا۔

علاوہ ازیں توقع کی جارہی ہے کہ ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو بورڈ سے 2020 کے اوائل میں قرض کی درخواست منظور ہوجائے گی۔مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے پالیسی اور ادارہ جاتی فریم ورک، ترقی اور مسابقت کو فروغ دینے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے مذکورہ حکومتی اقدام واضع کردہ تین پروگرام پر مشتمل سیریز میں سے ایک ہے۔واضح رہے کہ مجوزہ سیریز دو سالہ ڈویلپمنٹ پالیسی سیوریونگ ہیومن انویسٹمنٹ ٹو فوسٹر ٹرانسفارمیشن (شفٹ) کی تکمیل ہوگی۔علاوہ ازیں رواں ماہ میں ہی وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت بالآخر درست سمت پر گامزن ہے اور ہماری متعدد اصلاحات کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ 4 برس میں پہلی مرتبہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ اکتوبر 2019 میں خسارے سے نکلا ہے اور اس کے حجم میں اضافہ ہوا ہے، جو ستمبر 2019 کے منفی 28 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 9 اکتوبر 2019 میں مثبت 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا اور اکتوبر 2018 کے منفی ایک ارب 28 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں ستمبر 2019 میں منفی 28 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73.5 فیصد کمی آئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…