تجارتی خسارے کو کیسے قابو میں کیا جا سکتا ہے ؟ حکومت کو مشورہ دیدیا گیا

  جمعہ‬‮ 28 جون‬‮ 2019  |  16:05

لاہور( این این آئی)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے صنعتی مقاصد کیلئے گیس کی قیمتوں میں31فیصد تک اضافہ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کی قیمتوں میںاضافے سے صنعتی شعبہ متاثر ہوگا،پانچ برآمدی شعبوں کے لئے زیرو ریٹڈ ختم ہونے، ڈالر کی اونچی اڑان اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے صنعت و تجارت کا شعبہ بری طرح متاثر ہو گا۔ اور ملکی برآمدات خطرناک حد تک گر جائیں گی،مہنگی گیس و بجلی سے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت 10سے 15فیصد تک بڑھ جائے گی اور مہنگائی میں مزید


اضافہ ہو جائے گا جس کے عام آدمی کی زندگی پر برے اثرات مرتب ہونگے ،حکومت تجارتی خسارے کو کنٹرول کرنے اور صنعتی ترقی کیلئے صنعتی مقاصد کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی بجائے کمی کرے ۔چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن کی طرف سے صنعتی شعبہ میں گیس کی قیمتوں میں 31فیصد اضافہ کی سمری کو مسترد کردیا جائے اور ڈالر کی قیمت میں کمی اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے اقدامات کیے جائیں کیونکہ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھائو معیشت کیلئے خطرناک ہے اور اس سے صنعتی شعبہ متاثر ہوگا ۔ صنعتوں میں استعمال ہونے والا درآمدی خام مال مہنگا ہونے سے صنعتی شعبہ متاثر ہورہا ہے کیونکہ اس سے اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ سے قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے ۔اس لیے حکومت روپے کی قدر کو گرنے سے روکنے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے ۔وائس چیئرمین پیاف ناصر حمید خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیداواری لاگت بڑھنے سے نجی شعبے کو اپنے کاروباری منصوبے بنانے اور مستقبل کے اندازے لگانے میں شدید مشکل درپیش آرہی ہے کیونکہ ان پٹ کاسٹ میں اضافہ سے صنعت وتجارت کا شعبہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ، بلند پیداواری لاگت ہونے سے صنعتوں کے لئے عالمی مارکیٹ میں ہم عصر ممالک سے مسابقت میں بھی مشکلات کا سامنا ہے اور ملکی برآمدات پر اسکے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں لہٰذا ایسے میں گیس نرخوں میں اضافہ کرنا صنعتوں کے لئے تاہ کن ثابت ہو سکتا ہے چونکہ مقامی صنعتی شعبہ مختلف مصنوعات تیار کرنے کیلئے زیادہ تر خام مال باہر سے درآمد کرتا ہے۔

موضوعات:

loading...