جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کی نا قص پالیسیوں سے800 فلور ملیں بند ہو گئیں : خواجہ حبیب

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )ایران پاک فیڈریشن آف کلچراینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمتیں 160سے 220ڈالر ہونے کے باوجود حکومت کی غفلت کے باعث کھلے گوداموں میں پڑی اربوں روپے کی71 لاکھ ٹن گندم خراب ہو رہی ہے، اضافی گندم فلور ملوں کو دی جارہی نہ برآ مد کی جا رہی ہے،پنجاب میں اس وقت 52لاکھ ٹن ،سندھ میں 9لاکھ ٹن اور

پاسکو کے پاس 10لاکھ ٹن اضافی گندم موجود ہے جبکہ گزشتہ برسوں کا ’’کیری فارورڈ‘‘ بھی موجود ہے، عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کیلئے فلور ملوں کو سستی گندم فراہم کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فلور ملز ایسوسی ایشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک ہزار فلو ملیں ہیں جن میں سے صرف 200کام کر رہی ہیں اگر گندم پر ریلیف فراہم کیاجا ئے تو حکومت ناقص پالسیوں کے باعث بند800ملیں دو بارہ کام شروع کر دیں گی، حکومت کی جانب سے ایکسپورٹرز کو ریبیٹ دیے بغیر اسے ایکسپورٹ کی مد میں کثیر زرمبادلہ حاصل ہو گا اور ہزاروں لوگوں کو روز گار بھی ملے گا۔ خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ ہمارے ہاں منصوبہ بندی کا فقدان ہے، نہ پیداوار کو محفوظ کرنے کے لئے گودام بنائے گئے نہ برآمد کا جامع اور کوئی شفاف نظام ہے جس کی وجہ سے اربوں روپے کی گندم خراب ہو رہی ہے۔ا نہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ کی طرف سے 5لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی منظوری دینا احسن عمل ہے، امید ہے کہ حکومت کی نئی زرعی حکمت عملی میں تمام زرعی مسائل کا حل موجود ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…