پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

2 ماہ کے دوران کرنسی کے کاروبار میں 70 فیصد تک کمی

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک ) کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کا حجم گزشتہ 2 ماہ میں 70 فیصد تک گرگیا تاہم گرے مارکیٹ نے اپنے آپریشن کو بڑے پیمانے پر پھیلا دیا ہے۔ ڈیلرز نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان

(ایس ای سی پی) کی جانب سے کرنسی کے کاروبار کے لیے قانون پر قانون بنائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے تاجروں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ سیکریٹری جنرل ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ڈالر اور دیگر کرنسیوں میں سرمایہ کاری غائب ہوچکی ہے جبکہ کاروبار کا حجم گزشتہ 2 ماہ میں 70 فیصد تک گرگیا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی کرنسی کا کاروبار کرنے والی گرے مارکیٹ کا کاروبار بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے اور قانونی کاروبار کا 70 فیصد حصہ بھی غیر قانونی مارکیٹ کی جانب منتقل ہوچکا ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ ایکسچینج کمپنیوں میں کمپلائنس آفیسر کو پولیس افسر کی طرح اپنا کام کرنا ہوتا ہے اور ہر ٹرانزیکشن پر اپنے صارف کے حوالے سے رپورٹ بھی کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ فائنانشل ایکششن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے رواں سال جون کے مہینے میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا اور ملک کو بلیک لسٹ میں ڈالنے سے قبل حکومت کو وقت دیا گیا تھا کہ وہ مناسب انتظامات کرلیں پاکستان پر پڑنے والے اس دباؤ کے نتیجے میں غیر قانونی اور تشویشناک ٹرانزیکشنز اور صارفین کی شناخت کے لیے کئی قوانین بنائے گئے ہیں۔ منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے کے لیے بنائے گئے قوانین کی وجہ سے بینکوں کے ذریعے رقم کی منتقلی میں اضافہ دیکھا گیا، رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں بینکوں کے ذریعے رقم کی منتقلی میں 12.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ایس ای سی پی اور ایس بی پی کی جانب سے ’اپنے صارفین کو پہچانیں‘ کے نام سے چلائی جانے والی مہم میں تمام بینکوں کو اپنے صارف کی تفصیلات جاننا ضروری قرار دیا گیا۔ خیال رہے کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت 139 روپے ہے جو رواں سال جنوری میں 108 اور اگست میں 123 روپے تھی۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…