جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

2 ماہ کے دوران کرنسی کے کاروبار میں 70 فیصد تک کمی

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک ) کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کا حجم گزشتہ 2 ماہ میں 70 فیصد تک گرگیا تاہم گرے مارکیٹ نے اپنے آپریشن کو بڑے پیمانے پر پھیلا دیا ہے۔ ڈیلرز نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان

(ایس ای سی پی) کی جانب سے کرنسی کے کاروبار کے لیے قانون پر قانون بنائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے تاجروں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ سیکریٹری جنرل ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ڈالر اور دیگر کرنسیوں میں سرمایہ کاری غائب ہوچکی ہے جبکہ کاروبار کا حجم گزشتہ 2 ماہ میں 70 فیصد تک گرگیا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی کرنسی کا کاروبار کرنے والی گرے مارکیٹ کا کاروبار بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے اور قانونی کاروبار کا 70 فیصد حصہ بھی غیر قانونی مارکیٹ کی جانب منتقل ہوچکا ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ ایکسچینج کمپنیوں میں کمپلائنس آفیسر کو پولیس افسر کی طرح اپنا کام کرنا ہوتا ہے اور ہر ٹرانزیکشن پر اپنے صارف کے حوالے سے رپورٹ بھی کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ فائنانشل ایکششن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے رواں سال جون کے مہینے میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا اور ملک کو بلیک لسٹ میں ڈالنے سے قبل حکومت کو وقت دیا گیا تھا کہ وہ مناسب انتظامات کرلیں پاکستان پر پڑنے والے اس دباؤ کے نتیجے میں غیر قانونی اور تشویشناک ٹرانزیکشنز اور صارفین کی شناخت کے لیے کئی قوانین بنائے گئے ہیں۔ منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے کے لیے بنائے گئے قوانین کی وجہ سے بینکوں کے ذریعے رقم کی منتقلی میں اضافہ دیکھا گیا، رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں بینکوں کے ذریعے رقم کی منتقلی میں 12.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ایس ای سی پی اور ایس بی پی کی جانب سے ’اپنے صارفین کو پہچانیں‘ کے نام سے چلائی جانے والی مہم میں تمام بینکوں کو اپنے صارف کی تفصیلات جاننا ضروری قرار دیا گیا۔ خیال رہے کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت 139 روپے ہے جو رواں سال جنوری میں 108 اور اگست میں 123 روپے تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…