جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

غیر ملکی قرضے دوا نہیں ملک کیلئے زہر ہیں،قوم اس زہر کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی : خواجہ حبیب الرحمان

datetime 23  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی )ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ غیر ملکی قرضے دوا نہیں ملک کیلئے زہر ہیں،قوم اس زہر کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی،آج حکمران ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں کو جواز بنا کر غیر ملکی امداد اور

قرضوں کاجواز پیش کر سکتے ہیں  لیکن مستقبل میں یہ قابل قبول نہیں ہو گا، حکومت اپنے دعوؤں اور وعدوں پر عملدرآمد کیلئے پوری سنجید گی سے کوششیں کرے، کرپشن کے سد باب، ٹیکس وصولی کے نظام کی اصلاح، کرپشن کی رقم کی برآمدگی، ٹھوس تفتیش اور مقدمات کی فوری سماعت کے بغیرملک کے معاشی مسائل حل نہیں ہو ں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خانیوال چیمبر آف کامرس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجو دہ حالات میں اسٹیٹ بنک زیادہ نوٹ چھاپنے پر مجبور ہو گیا ہے جس سے روپے کی قدر مزید کم ہو جائے گی اور اس سے افراط زمیں اضافہ بھی ہو گا۔ان حالات میں حکومت کو مقامی کاروبار کو تحفظ فراہم کر نا ہو گا،غیر ملکی قرضوں سے نجات کیلئے حکومت کو قرضوں کی واپسی کا پروگرام دینا ہو گا۔آئی ایم ایف کی اگلی قسط کی ادائیگی کے باعث زرمبادلہ کے ذ خائر پر مزید بوجھ بڑھے گا،تین ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کا بھی قرض ہمارے اوپر ہے۔اس وقت معیشت کے گروتھ ریٹ میں اضافہ کرنے ،زرعی پیداوار بڑھانے اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ہمارا ٹیکسٹائل کا شعبہ تقر یباً منجمد ہو گیا ہے، انٹر نیشنل مارکیٹ میں ہماری مصنوعات کی مانگ کم ہو رہی ہے ان حالات میں ہماری معیشت کو ایک قوت بخش نسخے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی پالیسیاں بنانے کے منصو بے شروع کرنے کیلئے گراؤنڈ کی سطح پر سمجھ بوجھ رکھنے والے صنعتی حلقوں کی نمائندوں سے مشاورت کرے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…