جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے منافع میں 218 فیصد اضافہ

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ غیرملکی کمپنیوں کے ٹیکسز میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ان کے مجموعی کاروبار میں 62 فیصد اور منافع میں 218 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مذکورہ اعداد و شمار نیب کی جانب سے سیگریٹ کے تین سطحی ٹیکس کے نظام میں تحقیقات کے بعد سامنے آئے۔ پاکستان میں بنائی جانے والی سیگریٹ کے لیے

ماضی میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا 2 سطحی نظام ہوا کرتا تھا، جبکہ 18-2017 سے قبل فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سیگریٹ کے پیکٹ کی رٹیل پرائس کی بنیاد پر طے کی جاتی تھی۔ اس نظام کے مطابق 88 روپے سے زائد قیمت والے پیکیٹ پر 74.12 روپے اور اس سے کم قیمت والے پیکیٹ پر 32.98 روپے لیے جاتے تھے۔ تاہم تیسری سطح کے نظام کے بعد اب جس پیکیٹ کی قیمت 90 روپے سے زائد ہوگی اس پر 74.80 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ اسی طرح 58.5 روپے سے زائد روپے والے پیکیٹ پر 33.4 روپے جبکہ 58.5 سے کم روپے والے پیکیٹ پر 16 روپے ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ رواں مالی سال کے بجٹ کے اعلان کے وقت ایف بی آر نے سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو پہلی سطح سے دوسری سطح پر لانے سے روک دیا تھا تاہم دوسری سطح سے تیسری سطح پر لانے کی اجازت تھی۔ سیگریٹ کا دھواں پاکستان میں ہزاروں بچوں کی اموات کی وجہ نیب کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس نظام نے غیرملکی کمپنیوں کو اپنی ایک پروڈکٹ کے علاوہ باقی تمام مصنوعات کو پہلی سطح سے دوسری یا تیسری سطح تک لانے کی اجازت دے دی تھی جس کے نتیجے میں 86 فیصد غیر ملکی برانڈز نے کم سے کم فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ادا کی۔ ماضی میں سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو 87 فیصد سیل کے بعد اپنے فی پیک پر بھی 32.98 روپے ادا کرنے ہوتے تھے۔

تاہم 3 سطحی نظام کے متعارف ہونے کے بعد انہیں 86 فیصد سیل پر صرف 16 روپے فی پیکٹ ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ نیب حکام نے بتایا کہ اس نظام کے بعد کمپنیوں نے سیگریٹ کے پیکیٹس پر کمی اور انہیں کم سے کم ٹیکس ادا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ان کے سیلز میں اضافہ ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے ٹیکس نظام کی وجہ سے صرف 2 غیرملکی کمپنیوں کو 33 ارب روپے ٹیکس سے چھٹکارا ملا۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سفارشات کے بعد نیب نے تحقیقات کا آغاز کیا جن میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو نئے ٹیکس نظام کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچ رہا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان کے آڈیٹرل جنرل نے بھی سیگریٹ سیکٹر میں ٹیکس کی کمی کے بعد ملے جلے مشاہدات پیش کیے تھے۔



کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…