بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

فنانس ایکٹ کا اطلاق ، ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آ گیا ،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ،زندگی گزارنا محال

datetime 2  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مالی سال 2018-19 کے فنانس ایکٹ کے اطلاق کے بعد ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آ گیا ہے۔مالی سال 2018-19 کے شرو ع ہوتے ہی ملک میں فنانس ایکٹ 2018-19 کا اطلاق ہو گیا ہے جس کے بعد بجٹ میں لگائے گئے 93 ارب روپے کے ٹیکس عائد ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان آگیا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فنانس بل کے نافذ ہونے کے بعد اب نان فائلرز ملک میں تیار کی گئی نئی گاڑی یا درآمد کی گئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔نان فائلرز کے لیے 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے پر پابندی عائد ہوگئی ہے۔ رکشے کے ٹائروں پر کسٹم ڈیوٹی 11 سے بڑھ کر 20 فیصد اور سویا بین آئل پر کسٹم ڈیوٹی بڑھ گئی ہے۔ ملک میں 10 ہزار سے 40 ہزار روپے والے موبائل فون پر 1000 روپے اور 40 ہزار سے 80 ہزار وپے کے موبائل فون پر 3000 روپے کے ٹیکس کا اطلاق ہو گیا ہے۔ 80 ہزار روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون پر 5000 روپے کا ٹیکس کر دیا گیا ہے۔فنانس ایکٹ کے نفاذ کے بعد سالانہ 4 لاکھ سے 8 لاکھ روپے آمدن پر 1 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ 8 لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے انکم ٹیکس عائد ہوگا۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 29 ارب کے ٹیکسز عائد اور سیلزٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 50 ارب 40 کروڑ روپے کا ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جن کا اطلاق بھی ہو گیا ہے۔حکومت کی جانب سے مالی سال 2018-19 کے بجٹ میں دیے گئے184 ارب 50 کروڑ روپے کا ٹیکس ریلیف بھی عوام کو فراہم کر دیا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے فنانس ایکٹ کے نفاذ کے بعد استعمال شدہ کپڑوں اور جوتوں کی درآمد پر ویلیو ایڈیشن ٹیکس اور آلات سماعت کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ بجٹ میں کیے گئے اعلان کے تحت اسپیشل اکنامک زونز کے لیے مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

اور پروموشن، ایڈورٹائزنگ کے مواد کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ کا اطلاق ہوگیا ہے۔سابق حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلان کے تحت فرٹیلائزرز پر سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم ہوکر 2 فیصد اور ایل این جی کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم ہوکر 12 فیصد ہوگئی ہے جس سے ایل این جی کی قیمت میں کمی آئے گی۔کوئلے کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی 5 فیصد سے کم ہوکر 3 فیصد ہوگئی ہے۔

فنانس ایکٹ کے عائد ہونے کے بعد اب الیکٹرک گاڑیوں کی کٹس کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی 50 سے کم ہوکر 25 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم ہوگئی ہے۔ ملک میں نایاب کاروں اور جیپوں کی درآمد پر 5000 ڈالر فکسڈ ٹیکس عائد ہو چکا ہے۔مالی سال 2018-19 کے فنانس ایکٹ کے اطلاق کے بعد آگ بجھانے والی گاڑیوں کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی 30 فیصد سے کم ہوکر 10 فیصد تک آگئی ہے۔ حکومت کی جانب سے قرآن پاک کی طباعت کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…