منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

صرف چین پر انحصار پاکستان کو بھاری پڑے گا،پاکستان پر قرضوں کا بوجھ کتنے ارب ڈالر ہوگیا؟آئندہ سال کیا ہونیوالا ہے؟معاشی جریدے بلوم برگ نے خطرناک دعویٰ کردیا

datetime 25  مئی‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) معاشی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان کی غیر مستحکم صورتحال کے باعث آئندہ سال شرحِ نمو حکومتی اندازوں سے کم رہے گی۔زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوتی رہی تو پاکستان کو پھر آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا، صرف چین پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستان کو عالمی معیشت سے تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔بین الاقوامی معاشی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ جولائی تک نواز شریف کے دور میں پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر تھی،

گزشتہ سال شرح نمو 13سال میں سب سے زیادہ پانچ اعشاریہ 8 فی صد رہی، مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ماہرین کے نزدیک پاکستان کا صرف چین پر انحصار کرنا اس مسئلے کی وجہ بنا، سی پیک منصوبے میں چینی سرمایہ کاری سے پاکستان کو بہت سے فوائد ہوئے لیکن ہیوی مشینری اور دیگر سازوسامان کی چین سے خریداری نے رواں مالی خسارہ 50فیصد بڑھاکر ریکارڈ 14بلین ڈالر تک پہنچادیا ہے،دو بار روپے کی قدر کم کرنے کے باوجود اسٹیٹ بینک زرمبادلہ ذخائر کو برقرار نہ رکھ سکا۔رپورٹ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے تسلیم کیا ہے کہ اپریل میں چینی بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض لیا گیا ہے، پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 91ارب ڈالر سے زائد ہوچکا ہے، جس میں ن لیگ کی حکومت میں 50فیصد اضافہ ہوا۔بہت سے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اسی رفتار سے گھٹتے رہے تو پاکستان کو چند ماہ میں پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹانا ہوگا، جس کیلیے مبینہ طور پر عمران خان بھی آمادہ ہیں۔معیشت کو درپیش مشکلات کے حل کیلیے تجویز دی گئی ہے کہ صرف چین پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستان عالمی معیشت سے ربط مضبوط کرے۔ معاشی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان کی غیر مستحکم صورتحال کے باعث آئندہ سال شرحِ نمو حکومتی اندازوں سے کم رہے گی۔زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوتی رہی تو پاکستان کو پھر آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…