منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹس اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری کرنیوالوں کیلئے بڑی خوشخبری، شاندار اعلان ہوگیا

datetime 5  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)وفاقی حکومت نے ملک میں کاشت کاروں کو نقصانات سے بچانے کے لیے آئندہ بجٹ میں زرعی فصلوں اور مویشیوں کی انشورنس کو ایڈوانس ٹیکس سے چھوٹ کے ساتھ بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹس اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی ٹیکس سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے فنانس بل2018 کے

ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترامیم کرنے کی تجاویز دے دی ہیں۔میڈیا کو دستیاب دستاویز کے مطابق کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ملک میں زرعی فصلوں اور لائیو اسٹاک انشورنس کو فروغ دینے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں نئی شق 100شامل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انشورنس کمپنیوں پر زرعی فصلوں کی انشورنس اسکیم (سی ایل آئی ایس)اور لائیو اسٹاک انشورنس اسکیم(ایل آئی ایس)کے پریمیم کی وصولی پر انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 236 یو کی ذیلی شقوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔اسی طرح ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں نئی شق 103شامل کی ہے جس میں کہا گیاکہ بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹس اکانٹس میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر سیکشن 7 بی کی ذیلی شقوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔اس بارے میں جب ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کاشت کاروں کو نقصانات سے بچانے کے لیے زرعی فصلوں اور لائیو اسٹاک کی انشورنس کے لیے انشورنس کمپنیوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے پریمئیم پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی نہیں کی جائے گی۔اسی طرح پنشنرز اور بزرگ و غریب لوگوں کو سہولت دینے کے لیے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹس اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی ٹیکس سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…