جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں گردشی قرضے 922 ارب روپے سے تجاوز کرگئے

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)  پاکستان میں توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے اندازے سے کئی گناہ زائد ہوگئے اور نومبر 2017 کے اختتام تک یہ 922 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے رواں ہفتے پارلیمان میں پیش کی گئی رپورٹ میں 30 نومبر 2017 تک گردشی قرضوں کی رقم 472 ارب روپے سے زائد بتائی گئی تھی تاہم رپورٹ میں پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ایچ پی ایل) سے متعلق 450 ارب روپے کے قرضوں کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

گردشی قرضے دوبارہ 400 ارب روپے سے تجاوز کرگئے خیال رہے کہ پی ایچ پی ایل توانائی کے شعبے کے ماتحت ادارے ہیں جو تجارتی بینکوں کی جانب سے فنڈز کو اکھٹا کرنے اور صارفین کے ٹیرف میں سرچارجز کے ذریعے مالی معاملات دیکھتا ہے۔ اس حوالے سے وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان کے مطابق بتائے گئے 472 ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے توانائی پیدا کرنے والے اداروں کو قلیل مدت میں ادا کرنے تھے لیکن انہیں اسٹیٹ بینک کی 17-2016 کی سالانہ رپورٹ میں نہیں دکھایا گیا اور اس رپورٹ میں مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے معاشی گروپ کی جانب سے طویل مدتی قرضوں کی ادائیگی کی جانب اشارہ کیا گیا۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے 89 ارب 40 کروڑ روپے سمیت تیل اور گیس سیکٹر کو 103 ارب روپے کی ادائیگی کرنی تھی جبکہ دسمبر 2013 میں تیل اور گیس کمپنیوں کی واجب الادا رقم 71 ارب روپے تک تھی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں پی ایس او کو توانائی کے شعبوں سے 285 ارب روپے وصول کرنے تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ وفاقی حکومت تین سال قبل کے پلان پر عمل کرتے ہوئے 2018 کے وسط تک گردشی قرضوں کو 204 ارب تک لے آئے۔ گردشی قرضے میں اضافہ، بجلی گھروں کو تیل کی ترسیل معطل وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق نومبر تک حب پاور کمپنی کو 70 ارب روپے واجب الادا تھے جو 2013 کے 75 ارب کے مقابلے میں کچھ کم تھے۔

جبکہ اس کے برعکس کوٹ ادو پاور کمپنی کے واجبات 2013 کے 41 ارب سے بڑھ کر 73 ارب روپے تک پہنچ گئے۔رپورٹ کے مطابق ان تمام بڑی کمپنیوں سمیت تمام خودکار پاور پروڈیوسر کو واجب  الادا رقم 2013 کے 270 ارب روپے کے مقابلے میں 288 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 2013 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد 480 ارب روپے کی کلیئرنس کے باوجود حالیہ گردشی قرضوں کی کل رقم 30 نومبر 2017 تک 472 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…