بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں تجارتی مقاصد کیلئے چینی کرنسی کو گرین سگنل

datetime 5  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے واضح کیا ہے کہ چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تجارتی امور میں چینی کرنسی یوان میں کاروبار کے لئے تمام تر انتظامات کیے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی احسن اقبال نے 19 دسمبر 2017 کو ارادہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان کی حکومت چین سے دوطرفہ تجارت کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی

’یوان‘ کے استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ پڑھیں: پاک-چین تجارت میں امریکی ڈالر کو یوان سے تبدیل کرنے کا امکان چین نے بلوچستان گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے ڈالر کے بجائے چینی کرنسی کی تجویز دی تھی تاہم حکومت نے نظر ثانی کے بعد تجویز مسترد کردی تھی۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ‘اسٹیٹ بینک نے چین کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے جامع پالیسی مرتب کرلی جس کے تحت درآمدات، برآمدات اور مالیاتی لین دین میں چینی کرنسی پر انحصار کیا جا سکتا ہے’۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ‘چین اور پاکستان کے پبلک اور پرائیوٹ مالیاتی ادارے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے لیے یوان کا انتخاب کرنے میں آزاد ہوں گے’۔ یہ بھی پڑھیں: ’یوان‘ کے استعمال سے پاک-چین تجارت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ چینی کرنسی یوان (آر ایم بی) اب پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کی صورت میں لین دین کے لیے منظور شدہ کرنسی کا درجہ رکھتی ہے اور اس ضمن میں پاکستان کے مرکزی بینک نے تمام ضروری ریگولیٹری فریم ورک تیار کرلیا جس میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاملات مثلاً لیڑآف کریڈٹ (ایل سی) اور فنانسنگ کی سہولیات چینی کرنسی میں ہو سکیں گی۔ مالی سال 2017 میں پاکستان نے 1 ارب 62 کروڑ ڈالر مالیت کی گڈز اور سروسز برآمد کی جبکہ چین سے درآمد کا حجم 10ارب 57 کروڑ ڈالر تھا جو بڑے عدم توازن کی

عکاسی کرتا ہے۔ چین اور پاکستان کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر حتمی فیصلہ لینا باقی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے تمام مقامی بینکوں کو بھی چینی کرنسی یوان میں ڈیپازٹ اور تجارتی قرض دینے کی اجازت دے دی ہے۔ مزید پڑھیں: چین نے اپنے شہریوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے سے آگاہ کردیا اسٹیٹ بینک نے 2012 میں ایک اعلامیے میں واضح کیا تھا کہ صرف تصدیق شدہ ڈیلرز ہی بیرونی رقم والا اکاؤنٹ کھولنے اور تجارتی قرضہ دینے کے اہل ہوں گے۔ مرکزی بینک کے مطابق

پاکستان میں بینک آف چائنا کے آغاز کے ساتھ ہی چین کی آن شور مارکیٹ تک رسائی مزید مضبوط ہوجائے گی جبکہ پاکستان میں متعدد نجی بینک آن شور یوآن اکاؤنٹس برقرار رکھ سکیں گے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے امید ظاہر کی کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کےتناظر میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی اور مالیاتی سرگرمیوں سمیت مقامی اور عالمی منڈیوں میں معاشی ترقی میں یوآن کرنسی کا استعمال مؤثر رہے گا اور دونوں ممالک طویل المدت فائدہ اٹھا سکیں گے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…