جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں کو اگلے 3دن کے دوران کس اہم ترین چیز کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،خبر دار کردیا گیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) ملک کو آئندہ تین دنوں میں بڑے پیمانے پر ایندھن بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ بائیکو اور پارکو سمیت ملک کی دیگر ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت کو اپنی پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس مصنوعات کی پیداوار روکنے سے متعلق آگاہ کردیا ہے، کیونکہ ان کے اسٹورز فرنس آئل سے بھرے ہوئے ہیں۔13 نومبر کو سیکریٹری پیٹرولیم کو لکھے گئے خط میں بائیکو نے آگاہ کیا کہ ان کے پاس ایندھن کی مصنوعات

کو اسٹور کرنے کی گنجائش نہیں ہے، دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس بھی فیول پروڈکٹس کو اسٹور کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، کیونکہ ان کے اسٹور میں فرنس آئل موجود ہے۔آئل انڈسٹری کا کہنا ہے کہ فرنس آئل بیسڈ پاور پلانٹس کی بندش سے ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اسٹوریج کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اب وہ پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس مصنوعات کی پیدوار جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گذشتہ ماہ 27 اکتوبر کو متعلقہ انڈسٹری کو اعتماد میں لیے بغیر پاور پلانٹس کو ڈیزل اور فرنس آئل سے نہ چلانے کا غیر معمولی فیصلہ کیا تھا، اس فیصلے کا مقصد نقد رقم کے بہاؤ اور گردشی قرضوں کے منفی اثرات کو کم کرنا تھا۔3 نومبر 2017 کو آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو ایک خط لکھا، جس میں فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس کی بندش کے اثرات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل اور ان کے متعلقہ ڈپارٹمنٹس نے کئی دن تک اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔تاہم کافی دن بعد بائیکو اور پارکو کی جانب سے خطوط موصول ہونے کے بعد وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے حکام ایکشن میں آئے اور اس سلسلے میں بدھ (22 نومبر) کو سیکریٹری پیٹرولیم کی سربراہی میں ایک میٹنگ ہوئی،

جس میں ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ریفائنریوں کی جانب سے تجویز دی گئی کہ حکومت کو میرٹ کی بنیاد پر فرنس آئل بیسڈ پاور پلانٹس چلانے چاہئیں تاکہ روزانہ 10 ہزار سے 12 ہزار ٹن فرنس آئل مقامی ریفائنریوں سے اٹھایا جاسکے اور اگر پاور ڈویڑن نے اس میں دلچسپی نہ لی تو پاکستان میں کوئی ریفائنری مقامی خام تیل نہیں اٹھائے گی، جس کے نتیجے میں تیل کے کنویں بند ہوجائیں گے اور ان کنوؤں سے گیس منقطع ہوجائے گی۔سیکریٹری پیٹرولیم نے اجلاس کے شرکاء4 کو بتایا کہ وہ اس معاملے کو پاور ڈویژن کے سامنے اٹھائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…