پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پاکستان آنے کا مقصد منافع کمانا نہیں، چینی کمپنی نے دس ہزار مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کا اعلان کردیا

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی )چین کی چائنا پاور انٹرنیشنل کمپنی نے کہا ہے کہ پاکستان آنے کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ وہاں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے،پاکستان کے گریجویٹ افراد کو تربیت اور روزگار فراہم کیا جائے گا۔چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابقپاک،چین اقتصادی راہداری (سی پیک)منصوبے میں اہم اسٹیک ہولڈر کی حیثیت میں شامل چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین وانگ بنگ ہوا نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں اپنے آلات کی

تنصیب اور فائدہ حاصل کرنے نہیں بلکہ پائیدار ترقی اور تباہ ہوتی مقامی صنعت کو مستحکم کرنے کے لیے آ رہے ہیں انہوں نے حب میں کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹ کے حوالے سے وعدہ کیا کہ منصوبے میں پاکستان کے گریجویٹ افراد کو تربیت اور روزگار فراہم کیا جائے گا، جب کہ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے افراد اگر کسی اور جگہ کام کرنا چاہیں گے تو بھی انہیں موقع فراہم کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا حب میں بننے والا بجلی گھر سالانہ 9 ارب کلو واٹ آور (kWh) بجلی پیدا کر سکے گا، جب کہ پلانٹ لگنے سے 10 ہزار مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ہم پاکستانی لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے اپنے گروپ میں زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی حب پاور پلانٹ پر سیفٹی، قابل اعتماد آپریشنل سسٹم، دوستانہ ماحول، معاشی استحکام اور معیار کو مدنظر رکھ کر کام کرے گی، جب کہ منصوبہ بلوچستان اور مقامی افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ان کی کمپنی پاور پلانٹ کے قریب ہی سیمنٹ فیکٹری لگانے کا اردہ رکھتی ہے، تاکہ پاور پلانٹ میں جمع ہونے والے کچرے کو بھی قابل استعمال بنایا جاسکے۔خیال رہے کہ یہ پلانٹ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہوگا، اس میں بنگ ہوا کی پاور کمپنی اور پاکستان کی حب پاور کمپنی شراکت دار

ہے جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پاورپلانٹ سے اگست 2019 تک بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔چائنا پاور انٹرنیشنل کمپنی کے چیئرمین نے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…