جمعہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2025 

72گھنٹوں کی ڈیڈ لائن،سندھ میں بڑے اقدام کا اعلان ہوگیا

datetime 22  جولائی  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی( این این آئی)کراچی کے تاجروں نے رینجرز اختیارات بحالی کے تحت حکومتِ سندھ کو 72گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا، اختیارات بحال نہ کیئے گئے تو تاجر وزیرِاعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دینگے، آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کی زیرِصدارت پیر 25جولائی کو آرام باغ فرنیچر مارکیٹ میں تاجروں کے ہنگامی اجلاس میں احتجاجی لائحہ عمل طے کیا جائیگا، جمعہ کو آل کراچی تاجر اتحاد کی سپریم کونسل کے فیصلے کے بعد عتیق میر نے حکومتِ سندھ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی اطمینان بخش اور حوصلہ افزاء صورتحال کے خلاف کسی بھی نامناسب فیصلے سے گریز کیا جائے اور بحالیِ امن کے تحت فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے والے سیکوریٹی اداروں کی کارکردگی میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کی جائے،انھوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور اغواء کاروں کا راستہ دوبارہ کھولنے کی کوشش نہ کرے، تاجر رہنماؤں اکرم رانا، انصار بیگ قادری، طارق ممتاز، زبیر علی خان، عبدالغنی اخوند، احمد شمسی، شیخ محمد عالم،سمیع اللہ خان، سید شرافت علی، ملک اسلم جاوید ارائیں، ضیاء عمر سہگل، الطاف لالہ، میر عبدالحئی خان،محمد آصف ، دلشاد بخاری، عبدالقادر، محمد عارف، عبدالحکیم شاہ، عرفان للہ، امان اللہ شاہ، شاکر فینسی اور دیگر نے شہر میں قیام امن کے تحت رینجرز کی بیمثال کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں رینجرز کو بے اختیار کیا گیا تو بھتہ خور پھر با اختیار ہوجائینگے، امن و امان کے تحت کی گئیں کوششوں کو دھچکا پہنچے گا اور زیرِ زمین چھپے ہوئے بھتہ خور اور اغواء کار دوبارہ فعّال ہوجائینگے، تاجروں نے کہا کہ تاجر برادری رینجرز کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہے، سیاسی جماعتیں اپنی صفوں کو مجرموں سے پاک کریں رینجرز کا خوف از خود ختم ہوجائیگا، رینجرز کی کارکردگی غلطیوں سے پاک نہیں ہے لیکن رینجرز کی غلطیوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ اصلاح بھی تجویز کی جائے، عتیق میر نے کہا کہ رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن کی بدولت شہر میں سرمایہ کاری کی فضاء بحال ہورہی ہے، کاروباری مراکز میں خوف کی فضاء ختم، بھتہ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں 90%سے زائد کمی واقع ہوگئی ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں بھی واضح طور پر کمی واقع ہونے سے شہر میں خوف و ہراس کی فضا کا خاتمہ ہوگیا ہے، انھوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بحالئیِ امن کو فوقیت دے اور کسی بھی فیصلے سے قبل شہر میں امن و امان کے مستقبل کو پیشِ نظر رکھا جائے، موجودہ حالات سیکوریٹی اداروں کی حوصلہ افزائی کا تقاضا کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان رینجرز واحد ادارہ ہے جس نے شہر میں جرائم اور بدعنوانیوں کے خلاف تن تنہا بیڑہ اٹھارکھا ہے، سیاست زدہ، بے اختیار اور مفلوج پولیس قیامِ امن کا بوجھ تنہا نہیں اٹھاسکتی، رینجرز شہریوں کے ساتھ ساتھ پولیس کی بھی حفاظت کررہی ہے، انھوں نے کہا کہ رینجرز کو شہر میں اس وقت قیامِ امن کی ذمے داریاں تفویض کی گئی تھیں جب لاقانونیت اور بدامنی کے بدترین حالات میں تمام دینی،سیاسی اور تجارتی جماعتیں فوج کی تعینّاتی کا مطالبہ کررہی تھیں، انھوں نے خبردار کیا کہ اب رینجرز کو دوبارہ غیر فعال اور بے اختیار کیا گیا تو تاجر برادری سیکشن 245کے تحت صوبہ سندھ میں فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کریگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنبھلنے کے علاوہ


’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…

آپ کی تھوڑی سی مہربانی

اسٹیوجابز کے نام سے آپ واقف ہیں ‘ دنیا میں جہاں…

وزیراعظم

میں نے زندگی میں اس سے مہنگا کپڑا نہیں دیکھا تھا‘…

نارمل ملک

حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ…

وہ بے چاری بھوک سے مر گئی

آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…

ازبکستان (مجموعی طور پر)

ازبکستان کے لوگ معاشی لحاظ سے غریب ہیں‘ کرنسی…

بخارا کا آدھا چاند

رات بارہ بجے بخارا کے آسمان پر آدھا چاند ٹنکا…

سمرقند

ازبکستان کے پاس اگر کچھ نہ ہوتا تو بھی اس کی شہرت‘…