بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں 8سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، خطرے کی گھنٹی بجنے لگی

datetime 18  جولائی  2016 |

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین لاہور ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی وایگز یکٹو ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس و انڈسٹریز ظہیر بھٹہ نے مالی سال2015-16کے دوران (جولائی تا جون2015-16) کے دور ان ملکی برآمدات گزشتہ 8سال کی کم ترین سطح پر گرنے اور تجارتی خسارہ میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافہ کے سازگار ماحول کی فراہمی اورصنعتی مقاصد کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کی جائے ۔انہوں نے ماہ جولائی سے اوگرا کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور 110ارب روپے کا اضافی بوجھ عوام پر ڈالنے کو غلط فیصلہ قرارر دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے انڈسٹری پر اضافی بوجھ پڑے گا اوراشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ سے ملکی برآمدات اور تجارتی خسارہ میں مزید کمی واقع ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے خلدون جاوید ملک سینئر وائس چیئرمین ،محمد اعظم چوہدری وائس چیئرمین کے ساتھ ٹاؤن شپ انڈسٹریز کے صنعتکاروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ظہیر بھٹہ نے کہا کہ جب تک ملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے مثبت اقدامات نہیں کیے جاتے اور برآمدات میں اضافہ کیلئے نئی مارکیٹوں کی تلاش اورصنعتی مقاصد کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی برآمدات میں مسلسل کمی ہوتی رہے گا اور تجارتی خسارہ بڑھتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے برآمدات میں اضافہ کیلئے اقدامات کیے جائیں،انہوں نے کہاکہ نئی تجارتی پالیسی میں ملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے اربوں روپے استعمال میں لائے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کیلئے نئی منڈیوں کی تلاش از حد ضروری ہے پاکستان میں بجلی و گیس کی قیمتیں دیگر ہمسائیہ ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے اور پاکستانی مصنوعات مہنگی ہونے کی بناء پر پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ میں دیگر ممالک سے مقابلہ نہیں کرسکتااس لیے حکومت صنعتی مقاصد کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کر ے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…