پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں3G/4G کے بعد ایک اوراہم قدم،تیاریاں شروع

datetime 7  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)حکومت نے تقریباَ دو سال پہلے جدید سپیکٹرم 3G/4G کی کامیاب نیلامی کروائی۔ جس کے نتیجے میں ٹیلی کام سیکٹر اور صنعت میں بے پناہ ترقی دیکھنے میں آئی ۔ ٹیلی کام صارفین کی تعدادمیں ناقابل یقین حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی نئے سپیکٹرم کی بدولت براڈبینڈ کی شرح 3فیصد سے بڑھ کر پندرہ فیصد تک چلی گئی ۔ اسی مثبت رحجان کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے 2014 ءکی نیلامی میں بقایا بچ جانے والے سپیکٹرم کی دوبارہ نیلامی پر غور و خوض شروع کردیا ہے اس ضمن میں وزیراعظم پاکستان نے ایک مشاورتی کمیٹی برائے سپیکٹرم نیلامی کی منظوری دی ہے۔ وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام مسز انوشہ رحمن اس کمیٹی کی سربراہ مقرر کی گئی ہیں جبکہ وزیراعظم کے خصوصی معاونین برائے قانون و انسانی حقوق ، سیکریٹری خزانہ و سیکریٹری قانون ، چیئرمین پی ٹی اے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریکیونسی ایلوکیشن بورڈ (ED-FAB)اور ممبر ٹیلی کام اس کمیٹی کے ممبران مقرر کئے گئے ہیں۔جبکہ ممبر ٹیلی کام ” کمیٹی سیکریٹری ” کے فرائض بھی سرانجام دیں گے۔ اس مشاورتی کمیٹی برائے سپیکٹرم نیلامی کا افتتاحی اجلاس وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام مسز انوشہ رحمن نے کہا کہ ہم 2014 ءکی طرح اس بار بھی ” سپیکٹرم نیلامی ” کو انتہائی شفاف اور پروفیشنل انداز میںمنعقد کروانے کا عزم رکھتے ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے سید اسماعیل شاہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی ٹی اے نے اس سلسلہ میں کنسلٹینٹس کی خدمات مستعار لی ہیں جو کہ مارکیٹ کا جائزہ (Market assessment ) لے رہے ہیں ۔ انکی طرف سے حتمی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کردی جائیگی توقع ہے کہ یہ رپورٹ جنوری 2016ءکے آخر تک مکمل کر لی جائیگی۔یہ مشاورتی کمیٹی پی ٹی اے کی طرف سے پیش کی جانے والی مارکیٹ جائزہ رپورٹ کا تفصیلی معائنہ کریگی اور اسکی بنیاد پر نیلامی کے طریقہ¿ کار اور حکمت عملی پر مشتمل پالیسی ڈائریکٹو کا اجراءعمل میں لائے گی۔ مسز انوشہ رحمن نے کہا کہ یہ نیلامی پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ ملک میں صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے سپیکٹرم کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتی ہیں بلکہ اپنے صارفین کو بہترین براڈ بینڈ کی سہولیات بھی مہیا کر سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…