بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

افغانستان سے درآمدہ کوئلے پر زائد ٹیکس وصولی پر جواب طلب

datetime 13  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت نے افغانستان سے درآمد کیے گئے کوئلے پر زیادہ ٹیکس وصول کرنے پر وزارت تجارت سے جواب طلب کر لیا ہے۔کمیٹی کے رکن عثمان کاکڑ نے قائمہ کمیٹی کو درخواست دی ہے کہ پاکستان میں جو کوئلہ دیگر ممالک سے درآمد ہو رہاہے وہ کراچی کے ذریعے آتا ہے، کراچی میں کوئلہ صرف ایک کمپنی درآمد کر رہی ہے اور اس پر ستر ڈالر فی میٹرک ٹن ٹیکس عائد کیا گیا ہے جبکہ افغانستان سے پینتیس کمپنیوں کے ذریعے کوئلہ درآمد کیا جاتا ہے لیکن اس پرطورخم بارڈر پر85 ڈالر فی میٹرک ٹن ٹیکس عائد کیا گیا ہے اس طرح پندھرہ ڈالر فی میٹرک ٹن کا فرق عائد کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے کراچی کی مارکیٹ سستی ہو گئی ہے جبکہ افغانستان سے کوئلہ منگوالے والے درا?مد کنندگا ن کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس حکومتی اقدام سے ملک اور کاروبار کو نقصان ہو رہا ہے، اس کا نوٹس لیا جائے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے وزارت تجارت کے سیکریٹری سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ حکام سے جلد از جلد اطلاعات حاصل کرکے کمیٹی کو ا?گاہ کریں تاکہ اس مسئلے پر مزید کارروائی کی جا سکے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملک میں مختلف قوانین رائج ہیں، افغانستان سے کوئلے کی درآمد کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس سے درآمد کنندگان کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے بزنس مین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اگر ملک میں سرمایہ کار اور تاجر فرینڈلی ماحول بنایا جائے تو اس سے سرمایہ کاری ہو گی اور روزگار کے دروازے کھلیں گے۔ اس حوالے سے جب وزارت تجارت کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کوئلے کی درا?مد کے مسئلے پر ایف بی آر سے جواب لے کر قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…