بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

مزید100این جی اوز کیخلاف ایکشن

datetime 9  جولائی  2015 |

اسلام آباد (این این آئی ( سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے اور مقررہ مدت میں لائنسسوں کی تجدید نہ کروانے پر ایک سو غیر منافع بخش فلاحی تنظیموں (NGOs) کے لائسنس منسوخ کر دئیے ہیں ۔ یہ لائسنس کمپنیز آرڈیننس کے سیکشن42کے رولز نمبر چھ کے تحت منسوخ کئے گئے ہیں۔ رواں سال اپریل میں ایس ای سی پی نے ان ہی وجوہات پر 100غیر منافع تنظیموں کے لائسنس منسوخ کئے تھے۔ ایس ای سی پی کی جانب سے ر واں سال یکم جنوری کو 423این جی اوز کو ایک سرکلر کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ16فروری تک اپنے لائسنسوں کی تجدید کروائیں ۔ یہ تمام وہ این جی اوزہیںجنہیں یکم جنوری 2010سے پہلے لائسنس جاری کئے گئے تھے اور انہیںقانون کے مطابق پانچ سال کے عرصے کے بعد اپنے لائسنسوں کی تجدید کروانا تھی۔ اس مشق کے پہلے مرحلے میں اپریل میںایس ای سی پی نے ایک سوآٹھ ایسی این جی اوز کے لائسنس منسوخ کر دئیے جنھوں نے بار بار انتباہ کے باوجودگزشتہ پانچ سالوں کے دوران اپنے سالانہ فنانشل اکاوئنٹ جمع نہ کروائے اور نہ ہی لائسنس کی تجدید کی درخواست جمع کروائی ۔ دوسرے مرحلے میں ایس ای سی پی نے 100ایسی این جی اوز کے لائسنس منسوخ کر دئیے ہیں جو کہ صرف جزوی طورپر اپنے سالانہ ریٹرن جمع کروا رہی تھیں لیکن ایس ای سی پی کے یکم جنوری کے سرکلر کے باوجود اپنے لائسنس کی تجدید کی درخواست جمع نہیں کروائی۔ یاد رہے کی ایس ای سی پی کے کاری کردہ سرکلر 2اور4کے مطابق صرف ان این جی اوز کو اپنے لائسنس کی تجدید کی ہدایت کی گئی تھی جس کے لائسنس پانچ سال کی مدت مکمل کر چکے ہیں۔ ایس ای سی پی کے سرکلر کے بعد 193این جی اوز نے اپنے لائسنس کی تجدید کی درخواستیں جمع کروائیں۔ ان تمام کمپنیوں کو اپنا موقف پیش کرنے اور اظہار وجوہ کا جواب داخل کروانے کی ہدایت کی گئی تھی ۔منسوخ کی گئی این جی اوز کی فہرست ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر مہیا کر دی جائے گی۔ تمام متعلقہ رجسٹرار آف کمپنیز کو ان کمپنیوں کے نام رجسٹرڈ تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کے لئے قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…