اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اردو کودفتری زبان قراردینے کے بعدصوبے سے بھی مطالبہ سامنے آگیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندرحیات شیرپاﺅنے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اردو کوسرکاری ودفتری زبان کے طور پر رائج کرنے کے ساتھ ساتھ پشتوزبان کو خےبر پختونخوامیں سرکاری و دفتری زبان کا درجہ دےا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ مادری زبانوں کی اپنی اہمیت ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خےبر پختونخوا میں پشتو زبان کوہی بطور سرکاری و دفتری زبان رائج کےاجائے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کے روز یونین کونسل ملکنڈیر غازی آباد میں ایک شمولیتی تقریبسے خطاب کے دروان کیا ۔انھوں نے کہا کہ اگر ترقی ےافتہ ممالک جیسے چین، جاپان،جرمنی اور دوسری اقوام کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ےہ حقےقت آشکارا ہوجاتی ہے کہ ان ممالک نے مادری زبان ہی کے ذر یعے تعلیم اور دےگر امور میں ترقی کے منازل طے کئے ہیں ۔ اس موقع پر حاجی عطا خان، حاجی وارث خان، حاجی شاہ پورخان،محمد نبی، عناےت خان، حاجی نذیر محمد، حاجی روف خان، حاجی احمدجان اور سعید خان نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت قومی وطن پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔سکندر شیرپاو ¿نے کہا کے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابےن پائے جانے والے تناﺅ کے خاتمے کےلئے پختون قےادت کوآگے بڑھ کر اپنا کر دار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن کے قےام کےلئے پاک افغان تعلقات میں بہتری لاکر دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت مل سکے۔انھوں نے فاقی حکومت سے نےشنل اےکشن پلان پر عملدرآمد ےقےنی بنانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت شہرےوں کے تحفظ کو ےقےنی بنائے اور بد امنی کے خاتمے کےلئے اپنا کردار اداکرے تاکہ عوام کے اندر پائی جانے

مزیدپڑھیئے :1 کھرب 13ارب کی کرپشن

والی احساس محرومی اورعدم تحفظ کا خاتمہ ہوسکے۔انھوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو تنقےد کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی عدم توجہی سے خےبر پختونخوا کے نےٹ ہائیڈل پرافٹ کا مسئلہ سالوں سے کٹھا ئی میں پڑاہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبہ اور یہاں کے عوام محرومی اور پسماندگی کا شکار ہیں۔انھوں نے صوبے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر ناراضگی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ اپنی ضرورت سے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…