بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اردو کودفتری زبان قراردینے کے بعدصوبے سے بھی مطالبہ سامنے آگیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندرحیات شیرپاﺅنے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اردو کوسرکاری ودفتری زبان کے طور پر رائج کرنے کے ساتھ ساتھ پشتوزبان کو خےبر پختونخوامیں سرکاری و دفتری زبان کا درجہ دےا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ مادری زبانوں کی اپنی اہمیت ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خےبر پختونخوا میں پشتو زبان کوہی بطور سرکاری و دفتری زبان رائج کےاجائے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کے روز یونین کونسل ملکنڈیر غازی آباد میں ایک شمولیتی تقریبسے خطاب کے دروان کیا ۔انھوں نے کہا کہ اگر ترقی ےافتہ ممالک جیسے چین، جاپان،جرمنی اور دوسری اقوام کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ےہ حقےقت آشکارا ہوجاتی ہے کہ ان ممالک نے مادری زبان ہی کے ذر یعے تعلیم اور دےگر امور میں ترقی کے منازل طے کئے ہیں ۔ اس موقع پر حاجی عطا خان، حاجی وارث خان، حاجی شاہ پورخان،محمد نبی، عناےت خان، حاجی نذیر محمد، حاجی روف خان، حاجی احمدجان اور سعید خان نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت قومی وطن پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔سکندر شیرپاو ¿نے کہا کے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابےن پائے جانے والے تناﺅ کے خاتمے کےلئے پختون قےادت کوآگے بڑھ کر اپنا کر دار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن کے قےام کےلئے پاک افغان تعلقات میں بہتری لاکر دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت مل سکے۔انھوں نے فاقی حکومت سے نےشنل اےکشن پلان پر عملدرآمد ےقےنی بنانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت شہرےوں کے تحفظ کو ےقےنی بنائے اور بد امنی کے خاتمے کےلئے اپنا کردار اداکرے تاکہ عوام کے اندر پائی جانے

مزیدپڑھیئے :1 کھرب 13ارب کی کرپشن

والی احساس محرومی اورعدم تحفظ کا خاتمہ ہوسکے۔انھوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو تنقےد کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی عدم توجہی سے خےبر پختونخوا کے نےٹ ہائیڈل پرافٹ کا مسئلہ سالوں سے کٹھا ئی میں پڑاہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبہ اور یہاں کے عوام محرومی اور پسماندگی کا شکار ہیں۔انھوں نے صوبے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر ناراضگی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ اپنی ضرورت سے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…