منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

ترکیہ اور شام کے سرحدی علاقے میں ایک مرتبہ پھر زلزلہ مزید کئی عمارتیں گر گئیں

datetime 21  فروری‬‮  2023 |

انقرہ(این این آئی )ترکیہ اور شام کے سرحدی علاقے میں 6.4 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔یورپی بحیرہ روم (بحر متوسط) کے زلزلہ پیما مرکز(ای ایم ایس سی)نے بتایا کہ اس زلزلے کی گہرائی دس کلومیٹرتھی۔عرب ٹی وی کے مطابق ترکیہ کے قدرتی آفات سے

نمٹنے کے ادارے اے ایف اے ڈی (عفاد)کا کہنا تھا کہ زلزلے کا مرکز صوبہ حاتائے کے شہر دیفنے کے آس پاس تھا۔ زلزلے کے جھٹکے اردن، مصر اور اسرائیل میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے اطلاع دی کہ شمالی مغربی شہرحلب میں اس نئے زلزلے کے نتیجے میں عمارتوں کاملبہ گرنے سے چھے افراد زخمی ہوگئے ہیں اور انھیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔یہ نیا زلزلہ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کو7.8 کی شدت کے زلزلے کے دوہفتے بعد آیا ہے۔اس تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں دونوں پڑوسی ممالک میں دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے تھے، اور 45،000 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔دونوں ممالک ابھی تک اس زلزلے کی تباہ کاریوں سے نبردآزما ہیں جبکہ بین الاقوامی برادری بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں شریک ہے۔مختلف ممالک کی امدادی ٹیمیں اشیائے ضروریہ ادویہ، طبی سامان اور رضاکارعملہ کے ساتھ زلزلہ زدگان کی مدد کررہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…