اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بچی کا رویہ پسند نہیں تھا سنگ دل ماں نے ڈیڑھ سالہ بیٹی کو قتل کردیا

datetime 28  جنوری‬‮  2023 |

قاہرہ(این این آئی )اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی کو تششد سے ہلاک کرنے والی مصری خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔ ڈیڑھ سالہ بچی جس کا نام بسمالہ معلوم ہوا ہے کے جسم پر زخموں اور جلنے کے نشانات پائے گئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر اپنی بیٹی کو خود ہی ماردینے والی خاتون کانام دنیابتایا گیا ہے اور اس کی عمر بیس سال ہے۔

اس نے اپنی بیٹی کو اپنی والدہ کے ساتھ مل کر بظاہر اس حال میں کوڑے دان میں پھینکنے کی کوشش کی تھی جب بچی بے ہوش تھی اور اس کا سانس چل رہا تھا۔لیکن اس مکروہ اور گھناونے اقدام کے دوران ایک خاکروب نے انہیں دیکھ لیا اور اس مشکوک کارروائی کے بارے میں پولیس کو بلانے کی دھمکی دے دی۔ جس پر مجبورا دنیا اور اس کی ماں بسمالہ کو ہسپتال لے گئیں۔مگر ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بچی کو مردہ قرار دے دیا اور پولیس کو بلا لیا۔ وہیں سے دنیا کو اپنی بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔دنیاکے ابتدائی اعتراف میں کہا گیا ہے کہ اس کی بچی کا رویہ اسے پسند نہیں تھا اس لیے وہ اسے مارتی رہتی تھی۔ 20 سالہ دنیا کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ کئی ماہ سے اپنی والدہ کے ساتھ ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی۔ جو بہت گدلا اور غلاظت سے اٹا ہوا تھا۔دنیاکی بچی بسمالہ کے بارے میں پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے ‘ڈائیپر بھی اس کی ماں کئی کئی دن تک تبدیل نہیں کرتی تھی۔

اس وجہ سے اس کے جسم پر دانے نکل آئے تھے۔ وہ چھوٹی بچی اکیلی باہر گلی میں نکل آتی تھی اور گلی کے لوگ اسے گھر واپس بھیج دیتے تھے۔ حتی کہ بارش اور سخت سردی میں بھی یہ بچی اکیلی باہر گلی میں آجاتی تھی۔اہل محلہ کے مطابق انہوں نے اس دوران کبھی بسمالہ کے والد کو اس سے ملنے کے لیے آتے نہیں دیکھا۔ نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ اس کا باپ کون ہے اور کہاں رہتا ہے۔ پولیس نے ‘دنیا’ کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…