جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

ماما قدیر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم

datetime 8  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماو¿ں ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وہ آزاد پاکستانی کی حیثیت سے دنیا میں کہیں بھی جاسکتے ہیں۔جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس فاروق علی شاہ پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے ڈویڑن بینچ نے بلوچ قوم پرست رہنما ماما عبدالقدیر اور فرزانہ مجید کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ماما قدیر اور فرزانہ مجید لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ریاست مخالف ہیں۔ وہ پرامن شہری اور پاکستان کی حدود کا احترام کرتے رہے ہیں، انھیں رواں سال جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیا گیا لیکن وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی نے موقف اختیار کیا کہ ماما قدیر نوجوانوں کو مسلح افواج اور وفاق پاکستان کے خلاف بھڑکاتے رہے ہیں، جس پر ماما قدیر کے وکیل نے کہا کہ اگر ان کے موکل پاکستان کی حدود کے اندر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ پاکستانی افواج کے خلاف بغاوت کررہے ہیں۔عدالت عالیہ نے ڈپٹی اٹارنی سے سوال کیا کہ کیا ماما قدیر کے خلاف کوئی مقدمہ ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس پر خاموشی اختیار کی، جس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ وہ پرامن اور آزاد شہری ہیں ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ماما قدیر اور فرزانہ مجید کو امریکا جانے سے روک دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزرات داخلہ اور ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ماما قدیر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اس لیے انھیں بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…