ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

امریکی فوج کی نئی فوجی گاڑی متعارف

datetime 8  ستمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) سب سے پہلے جیپ آئی، اس کے بعد حموی اور اب امریکی فوج نے ہر مقصد کے لیے ایک نئی گاڑی تیار کرلی ہے جسے جوائنٹ لائٹ ٹیکٹیکل وہیکل (جے ایل ٹی وی) کا نام دیا گیا ہے تاکہ امریکی لڑاکا طاقت کو بڑھایا جاسکے۔اگرچہ اس کا نام اپنے پیشرو جیسا اچھا تو نہیں مگر جے ایل ٹی وی ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے جس سے امریکا کو توقع ہے کہ وہ آنے والی دہائیوں میں اپنے فوجیوں کو تحفظ دے سکے گا۔فوجی حکام نے گزشتہ ماہ ہزاروں حموی کے متبادل کے طور پر کامیاب بولی کے فاتح کا اعلان کیا تھا جس کی تلاش کا کام 2003 میں عراق جنگ کے بعد کیا گیا تھا۔
عراق پر حملے کے دوران امریکی فوجیوں کی پیشقدمی میں حموی کی رفتار اور ہر جگہ موجود ہونے کو سراہا گیا تھا، مگر افغانستان میں بڑھتی عسکریت پسندی اور سڑک کنارے بم دھماکوں میں اضافے نے اس گاڑی اور اس کے سواروں کے لیے مشکلات پیدا کردی تھیں۔اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک کے سنیئر فیلو جم ہاسیک کے مطابق ” بکتر بند حموی بارودی سرنگوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں کی گئی تھی، اس کا طرز تعمیر ہی غلط تھا کیونکہ اس کا اندرونی حصہ زمین کے بہت زیادہ قریب تھا اور اس میں دھماکے کی شدت واپس پلٹ دینے کی صلاحیت نہیں تھی”۔اس کے بعد تیز رفتار بنیادوں پر 45 ارب ڈالرز کی لاگت سے 24 ہزار بارودی سرنگوں سے محفوظ حملہ آور گاڑیوں (ایم آر اے پی)کی فراہمی کے پروگرام پر کام ہوا۔6.75 ارب ڈالر کا معاہدہ
مگر وہ گاڑیاں بہت بھاری، ہر جگہ انہیں پہنچانا مشکل تھا، یہی وجہ ہے کہ فوج نے متبادل گاڑیوں پر غور شروع کیا جن کی نقل و حمل حموی جیسی آسان مگر تحفظ ایم آر اے پی جیسا ہو۔امریکی فوج نے پچیس اگست کو 6.75 ارب ڈالر کے معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت ایک کمپنی اوشکوش گاڑیاں تیار کریں گی۔فوج کا منصوبہ ہے کہ 2040 سے قبل ایسی پچاس ہزار گاڑیاں خریدی جائیں گی جبکہ میرین کور کو ساڑھے پانچ ہزار گاڑیوں کی ضرورت ہے۔ان گاڑیوں کی ترسیل دس ماہ کے اندر شروع ہوجائے گی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں کے ڈیزائن میں سڑک کنارے بم دھماکوں کے خطرے کو مرکوز نظر رکھا جائے گا اور یہ جان لیوا دھماکوں سے خود کو بچانے کی صلاحیت رکھتی ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…