اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

آٹے کی وافر فراہمی کے باجود روٹی ،نان کی قیمتیں کم نہ ہوسکیں ،شہری سراپا احتجاج

datetime 22  جنوری‬‮  2023 |

رائے ونڈ (این این آئی )محکمہ خوراک کی جانب سے آٹے کی وافر فراہمی کے باجود روٹی اور نان کی قیمتیں کم نہ ہوسکیں جس کے خلاف شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ تفصیلات کے مطابق رائے ونڈ تحصیل بھر میں ایک لاکھ سے زائد آٹے کے تھیلے فراہم کرنے کے باوجود ضلعی انتظامیہ روٹی اور نان کی قیمتیں کم کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے

مقامی نان بائیوں نے سرکاری احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے نان کی قیمت 25سے 30روپے مقرر کردی ہے ،کم وزن والے نان کی 25روپے میں فروخت کے ذمہ دار نان بائیوں کا کہنا ہے کہ ہمیں فائن آٹے کی بوری مہنگی مل رہی ہے جس کی وجہ سے نقصان ہورہا ہے ۔ادھر شہریوں نے ڈی سی لاہور کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈی سی لاہور کا رائے ونڈ کے شہریوں سے سوتیلوں جیسا اختیار کیاہے ،ڈی سی لاہور کا چارج سنبھالنے کے بعد آج تک رائے ونڈ کا دورہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جسکے باعث مقامی نان بائی مافیا بے لگام ہو چکا ہے ۔رائے ونڈ تحصیل میں تندور مالکان اور نانبائیوں کی گرانفروشی عروج پر پہنچ چکی ہے تندور مالکان کم وزن کا نان 25روپے اور روٹی 15روپے میں فروخت کر رہے ہیں ۔شہریوں کے بارہا احتجاج کے باوجود ضلعی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی ،شہر میں تندور مالکان کی من مانیوں سے شہری عاجز آچکے ہیں ۔تندور مالکان اور نانبائیوں کی گرانفروشی پر احتجاج کرتے ہوئے شہریوں نے ڈی سی لاہور سے مطالبہ کیا ہے کہ رائے ونڈ تحصیل افسران کمروں سے نکلنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ،افسران نے شہریوں کو گرانفروشوں کے رحم وکرم پر چھوڑرکھا ہے ڈی سی لاہور رائے ونڈشہر کا اچانک دورہ کریں اور گرانفروشی میں ملوث تندور مالکان سمیت دیگر مافیا کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…