اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں جمہوریت ہے نہ انسانی حقوق، 75 سال میں کوئی سبق نہیں سیکھا، مصطفی نواز کھوکھر

datetime 22  جنوری‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ لوگوں کو انصاف دیں گے تو تبھی ملک کامیاب ملک تصور ہو گا، جہاں بھی موقع ملا اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے، ہماری استدعا ہے یہ گفتگو نہ ٹوٹے اسی میں پاکستان کی کامیابی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے،

اگر پرامن احتجاج سے بھی محروم کریں گے تو پھر اور آپشن کیا رہ جائے گا، اس ملک میں جمہوریت نہ ہی کوئی انسانی حقوق ہیں، عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطہ ٹوٹ گیا ہے، ہم سیاسی بریک ڈان کے قریب کھڑے ہیں، 75 سالوں میں ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔انہوں نے کہا گوادر، بلوچستان کے مسائل کو حل کرنا کوئی مشکل کام نہیں، بارہ منٹ میں ایک شخص کو ایکسٹنشن دینے کیلئے قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان اکٹھے ہو سکتے ہیں تو بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کیوں نہیں؟، اسٹیبلشمنٹ کی مزید مداخلت کو دور نہ کیا تو بہت کم وقت رہ جائے گا، ہم سری لنکا نہیں ہیں ملک میں اتنی تقسیم اگر خدانخواستہ کوئی واقعہ ہو گیا تو مکمل بریک ڈان ہو جائے گا۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ملک میں اس وقت بہت بڑی ناامیدی ہے، اگر سنجیدہ ہوں گے تو مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، آج اگر نوجوانوں کو سٹیک ہولڈرز بنانا ہے تو پھر ڈیلیور کرنا ہوگا، قومی جماعتوں کے اندر صرف اور صرف اقتدار کا لالچ ہے، چاہتے ہیں مسائل پر گفتگو کرنے دی جائے، آج اس تقریب میں امید نظرآئی، ہمیں اب اس گفتگو کو مین سٹریم کا حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکے ہیں، آج کیا وجہ ہے لاپتا نوجوانوں کی ماں، بہنوں کو ہم جواب دینے کیلئے تیار نہیں، بڑے سانحے کے بعد آئین تیار کیا گیا اور آئین بنانے والے کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، لاپتا نوجوانوں کے لواحقین نے کتنی دفعہ ضمیر جگانے کی کوشش کی لیکن آج تک معاملہ حل نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…