اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کا بڑا مسئلہ الیکشن میں جیتنے اور ہارنے والوں کی لسٹ بننا ہے ایسا ہوتا رہے گا تو پھر مسائل حل نہیں ہوں گے، شاہد خاقان عباسی

datetime 21  جنوری‬‮  2023 |

کوئٹہ(این این آئی)مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کا بڑا مسئلہ الیکشن میں جیتنے اور ہارنے والوں کی لسٹ بننا ہے ایسا ہوتا رہے گا تو پھر مسائل حل نہیں ہوں گے۔کوئٹہ میں سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہمارا مقصد کوئی ووٹ حاصل کرنا یا کسی کو نیچا دکھانا نہیں ہے،

جب قومی اسمبلی، سینیٹ میں ایک دوسرے کو گالیاں دی جائیں تو عوامی مسائل ایک طرف رہ جاتے ہیں، ملک کی بدقسمتی ہے معیشت کی بدحالی انتہا کو پہنچ چکی ہے، اگر قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں میں مسائل پر بات ہو رہی ہوتی تو اس سیمینارکی ضرورت نہیں تھی۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ معیشت میں جب مشکل آتی ہے تو پھر مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، مشکل فیصلے کر کے معاملات کو درست سمت میں ڈالنا ہو گا، اپنے مفاد سے بڑھ کر پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھنا ہو گا، معاشی حالات پر قابو پانے کیلئے ایک لمبا عرصہ درکار ہو گا، سب کچھ آزما لیا اب ایک دفعہ آئین پر چلنا ہو گا، ملکی معیشت ہو گی تو سیاست ہو گی۔انہوں نے کہا کہ مسائل اس حد تک بڑھ چکے ہیں کوئی تنہا جماعت حل نہیں کر سکتی، سیاسی مفادات سے ہٹ کر دیکھنا ہو گا، صرف سیاست دان ذمہ دار نہیں عدلیہ کی حالت سب کے سامنے ہے، نیب، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ کا خوف ہو گا تو پھر سب ذمہ دار ہیں، پاکستان آج اپنے مسائل کی انتہا پر موجود ہے، ملک سیاسی انتشار کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا، سیاست دان اور ماہرین میں احساس نظر نہیں آ رہا۔مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما نے کہاکہ ہم ایٹمی طاقت بن گئے لیکن سکول، ہسپتالوں کا معیار بہتر نہ کر سکے، یہ بہت بڑی ناکامی ہے، آج ایک دوسرے پر الزام لگانے نہیں یکجا ہو کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہو گا، آج پاکستان کو بنیادوں کی طرف واپس آنا پڑے گا،عوام کی رائے، قانون کا احترام نہیں کریں گے تو پھر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ اکیسویں صدی میں مسنگ پرسن کا معاملہ شرمندگی کا باعث ہے،یہ انصاف کے نظام اور آئین کی ناکامی ہے، انسانی حقوق آئین کی بنیاد ہوتے ہیں، معاملات اس وقت حل ہوں گے جب الیکشن میں لسٹیں بنانا چھوڑ دیں گے، معاملات اس وقت حل ہوں گے جب راتوں رات جماعتیں بنانا ختم ہو جائیں گی، سینیٹ میں پیسے چلنا ہم سب کیلئے شرمندگی کا باعث ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ملک میں انصاف کا نظام بھی مفلوج ہو چکا ہے،

جب انصاف وقت پر نہیں ملتا تو پھر لوگ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں، ہم سب نے حکومتیں کی ہیں لیکن مسائل حل نہیں کر سکے ہم سب کیلئے شرمندگی کا باعث بھی ہے، سبق حاصل کرنا ہو گا، ملک میں تعلیم، صحت کے معاملات کو بہتر کرنا ہوگا، حکومت کو سروس کی ڈیلیوری کرنی پڑے گی۔انہوں نے کہاکہ اتنے تشویشناک حالات ہونے کے باوجود سیاسی نظام میں حالات کا مقابلہ کرنے کی کیپسٹی نظر نہیں آتی، غیر معمولی حالات کا مقابلہ بھی غیر معمولی عمل سے کرنا پڑے گا، آج کوئی ایسا فورم نہیں ہے جہاں پر معاملات کا حل تلاش کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…