جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

رواں مالی سال 10سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائیگی، وزیر مملکت برائے نجکاری

datetime 7  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)قومی خزانے میں اربوں ڈالر حاصل کرنے کیلئے پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ رواں مالی سال کے اختتام تک 10سرکاری اداروں کی نجکاری کرے گا جس میں دسمبر 2015کے اختتام تک پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری بھی شامل ہے۔ جنگ رپورٹر مہتاب حیدر کے مطابق وزیر مملکت برائے نجکاری محمد زبیر نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے خسارے میں چلنے والے عوامی اداروں کی نجکاری کی حمایت کا یقین دلایا ہے جبکہ تحریک انصاف نے تمام لین دین کے منصفانہ نظام اپنائے جانے پر حمایت کا وعدہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے اور اسٹیل ملز کے لین دین کااسٹرکچر اس ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا۔ان کے وزارتی دفتر میں دی نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران چیئرمین نجکاری کمیشن نے کہا کہ انہوں نے قومی خزانے کو سالانہ 5سو سے 6سو ارب روپے تک کے نقصان سے بچانے کیلئے اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی سید خورشید شاہ سے مشورہ مانگا تو انہوں نے کہا کہ پی پی نے اپنے 5سالہ دور میں سرکاری اداروں کو ہونے والے نقصانات پر قابو پانے کیلئے کئی جتن کیئے جن میں کامیابی نہ ہو سکی لہذا اس بھاری نقصان سے بچنے کیلئے اسٹیٹس کو کے پاس آگے بڑھنے کے سوا کوئی چارہ ہیں ہے۔انہو ں نے کہا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری سےاتصلات سے 800ارب ڈالرز سے زائد کا طویل تنازعہ ابھی تک جاری ہے اور امید ہے کہ اسے جلد حل کرلیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…