لاہور(نیوز ڈیسک) بریگیڈیئر (ر) شیر احمد ستارہ جرات نے کہا ہے کہ 1965 میں اگر میری بات مان لی جاتی تو آج مقبوضہ کشمیر آزاد ہو چکا ہوتا لیکن جنگ بندی کی وجہ سے مجھے واپس بلا لیا گیا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو میں انہوں نے کہا مجھے راجوڑی سیکٹر میں کارروائی کرنیکا حکم ملا، راجوڑی میں ہم چھ سات میل تک ایل اوسی کے اندر چلے گئے تھے۔ چھ ستمبر کی صبح میں نے تیس میل کا علاقہ اپنے قبضے میں کرلیاتھا میں نے اپنے ہاتھوں سے وہاں پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا اورمقامی حکومت قائم کردی۔میری راجوڑی شہرپر حملے کی تیاری تھی کہ مجھے سی او میجر مکرم کا حکم ملا کہ جنگ بندی ہوگئی ہے آپ واپس آجائیں میرا دل ٹوٹ گیا۔ اگر اس وقت میری بات مان لی جاتی تو ہم راجوڑی کو بنیاد بناکر کشمیر کو آزاد کرا سکتے تھے۔ پاک فضائیہ کے سکوارڈن لیڈر (ر) غنی اکبر ستارہ جرات نے کہا کہ 1965 میں قوم کا جذبہ بہت زیادہ تھا، اگر بھارت نے کوئی جارحیت کی تو آج بھی وہی جذبہ نظر آئیگا۔ہمیں کال آئی کہ بھارتی طیاروں کا مقابلہ کرنا ہے ہمارے پاس چھ جہاز تھے سجاد حیدرلیڈر تھے ہم نے پشاور سے نوبجے جسڑ کے لئے ٹیک آف کیا۔ ہم گوجرانوالہ کی طرف پرواز پر تھے۔لیکن ہمیں اطلاع ملی کہ آپ اٹاری جائیں کیونکہ انڈین بڑھ رہے ہیں، ہم وہاں سے ٹرن ہوئے اور واہگہ پر پہنچ گئے لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ہم بھارت کی طرف بڑھتے رہے پھر ہمیں بھارتی ٹینک نظر آئے بس پھر کیا تھا ہم نے سترہ منٹ ان پر راکٹ برسائے جو کچھ بھی تھا سب تباہ کردیا۔ایک بھارتی میجرجنرل لچھمن سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ چھ پاکستانی طیارے آئے اورہماراسب کچھ تباہ کرگئے۔ ایک اور بھارتی جنرل سکھوندر سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ پاک فضائیہ کے حملے میں ہمارا سب کچھ تباہ ہوگیا اورہمارا ٹاپ کمانڈر ایک جوتے اورایک جراب کے ساتھ اپنی جان بچا کر بھاگااوراس کا نمبر ٹو سائیکل پر امرتسر پہنچا تھا۔ اس وقت جذبہ ایسا تھا کہ موسم خراب تھا اس سے پہلے کوئی کچھ کہتا ایئرمارشل نورخان خود سی ون تھرٹی میں بیٹھ گئے اورخراب موسم کے باوجود انہوں نے خود ڈراپنگ کی۔ ایم ایم عالم میرے بہترین دوست تھے۔پاکستان نیوی کے وائس ایڈمرل (ر) احمد تسنیم نے کہا کہ میں غازی سب میرین میں تھا دو ستمبر کو پوری تیاری کے ساتھ دشمن کے علاقے میں تھے۔پانچ تاریخ کو ہم ممبئی کے پاس تھے لیکن بھارتی نیوی باہر نہیں آرہی تھی ہم نے دوارکہ کا پلان بنایا تاکہ بھارتی باہر نکلیں ایک سو بیس میل اندر جا کر دوا رکہ آپریشن میں چوبیس منٹ میں بھارتی علاقہ میں بمباری کی لیکن کوئی ردعمل نہیں ہوا۔ غازی سب میرین امریکی تھی اس کی ایک سیل خراب ہوگئی تھی ہمیں ایک دن کے لئے واپس آنا پڑا سیل کی مرمت ایک چیلنج تھا لیکن لاہور کے ایک مستری نے بارہ گھنٹے لگا کر سیل تیار کردی اور وہ سیل امریکی سیل سے بہتر تھی۔ ہم بھارت کے ساتھ شپ ٹو شپ، گن ٹو گن، ایئرکرافٹ ٹو ایئرکرافٹ مقابلہ نہیں کرسکتے لیکن ہم ان سے جذبے اور ٹریننگ میں برتری لے جاسکتے ہیں۔
65 میں میری بات مانی جاتی تو کشمیر آزاد ہوجاتا، سابق بریگیڈیئر شیر احمد
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)
-
راولپنڈی مری روڈ پر شہری کو گاڑی سے گھسیٹنے کا ڈراپ سین، پولیس تحقیقات میں اہم انکشاف
-
”پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی“ آئی ایم ایف کو منالیا، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان
-
نیشنل ایمرجنسی لگنے جا رہی ہے، پورا پاکستان کنٹرول میں آ جائے گا، نجم سیٹھی کا دعویٰ
-
خیبرپختونخوا میں گورنر راج، خواجہ آصف کا بڑا بیان آگیا
-
نادرا کی جانب سے شادی شدہ اورغیر شادی شدی خواتین کیلئے خصوصی سہولت کا اعلان
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی گراوٹ آگئی
-
لاہور میں غیرملکی لڑکی سے مبینہ زیادتی، میڈیکل رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف
-
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی، پی ٹی آئی کی حکمت عملی بھی تیار
-
ڈیفنس میں غیر ملکی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج، ملزمان کی شناخت ہوگئی
-
سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات کی اندرونی کہانی
-
اجتماعی زیادتی کا شکار غیرملکی خاتون کی پنجاب اسمبلی میں موجودگی کی تصاویر سامنے اگئیں، تحقیقات میں...
-
راولپنڈی: گاڑی سوار موٹرسائیکل کو ٹکر مار کر شہری کو بونٹ پر بٹھاکر گھماتا رہا، ویڈیو وائرل



















































