جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹرعاصم حسین ،سرفرازمرچنٹ ،ادکارہ نیلی اورعمران فاروق قتل کیس کاآپس میں کیاتعلق ہے ؟

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) دس سال پہلے کراچی کی شاہراہ فیصل پر سرفراز مرچنٹ نام کا فرنیچر کا ایک تاجر ہوتا تھا‘ یہ ایک عام درمیانے درجے کا بزنس مین تھا‘ یہ گم نام بھی تھا لیکن پھر اس نے اداکارہ نیلی کے ساتھ شادی کر لی اور یوں اس کا نام اخبارات میں آنے لگا‘ نیلی کی وجہ سے اس کا کراچی کے ایک ڈان سے جھگڑا ہوا اور یہ ملک سے فرار ہو گیا‘ یہ دوبئی میں سیٹل ہو گیا‘ 2008ءمیں حارث سٹیل مل اور بینک آف پنجاب کا ایشو سامنے آیا تو اس میں سرفراز مرچنٹ کا نام بھی آ گیا‘ اس پر الزام تھا‘ معروف اینکرپرسن اورکالم نویس جاویدچوہدری نے اپنے کالم میں انکشاف کیاہے کہ سرفرازمرچنٹ نے ججوں کے نام پر حارث سٹیل مل کے مالک شیخ افضل سے دوکروڑ اسی لاکھ روپے لئے‘ عدالتیں ایکٹو ہوئیں‘ نیب اور ایف آئی اے آگے بڑھی اور سرفراز مرچنٹ کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کی کوششیں شروع ہوگئیں لیکن کوششیں کامیاب نہ ہوئیں‘ کیوں؟ کیونکہ ڈاکٹر عاصم سرفراز مرچنٹ کے دوست تھے‘ سرفراز مرچنٹ اس وقت تک اتنا امیر ہو چکا تھا کہ وہ پارک لین لندن کے انتہائی مہنگے ہوٹل میریٹ میں مسلسل گیارہ سال مقیم رہا‘ وہ ہوٹل کے سوئٹ میں رہتا تھا‘ ڈاکٹر عاصم جب بھی لندن جاتے تھے‘ یہ اسی ہوٹل میں سرفراز مرچنٹ سے ملتے تھے۔سرفراز مرچنٹ کا دوسرا دوست انیس ایڈووکیٹ تھا‘ انیس ایڈووکیٹ ایم کیو ایم کے رابطہ کمیٹی کے ممبر رہے ہیں‘ یہ الطاف حسین کے قریبی ترین دوستوں میں بھی شمار ہوتے ہیں‘ لندن میں الطاف حسین کے خلاف جتنے مقدمات چل رہے ہیں‘ ان میں انیس ایڈووکیٹ بھی دوسرے ملزمان محمد انور ‘ افتخار قریشی‘ سرفراز احمداور طارق میر کے ساتھ زیر تفتیش ہیں‘ لندن میں 16 ستمبر 2010ءکو جب ڈاکٹر عمران فاروق قتل ہوئے تو اس دن بھی ڈاکٹر عاصم‘ انیس ایڈووکیٹ اور سرفراز مرچنٹ نے میریٹ ہوٹل پارک لین میں اکٹھے لنچ کیا۔

242526

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…