اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

1965ء کی جنگ کے غازی کی کہانی، غازی کی زبانی

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) 1965 کی جنگ میں پاکستان نے گھمنڈی دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، ہر سپاہی، ہر افسر نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، کسی نے ارض پاک پر جان وار دی تو کوئی غازی ٹھہرا۔ ایسے غازیوں میں سے ایک ہیں بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد (ستارہ جرات)۔ وہ کہتے ہیں کہ موت میرے سامنے تھی، میں نے فیصلہ کیا کہ If I’ll die, I’ll die attacking them.چونڈہ کا محاذ، ٹینکوں کی بڑی جنگ، مد مقابل کئی گنا بڑی فوج ، دشمن پہ ارض پاک کا اک اک جوان بھاری پڑا۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد کے مطابق دوٹینک میری طرف آ رہے تھے، میرے ٹینک کی گن ناکارہو چکی تھی اور میں اکیلا تھا، لیکن فیصلہ کیا کہ بھاگنا نہیں اور میں آگے بڑھا، مجھے بڑھتا دیکھ کر نجانے بھارتی فوجیوں کے دل میں کیا آیا کہ وہ پیچھے چلے گئے۔ موقع ملتے ہی غازی محمد احمد نے اپنا ٹینک ایک نالے میں گھسایا اور اس کی گن کی پن تبدیل کر لی ، پھر چند منٹ میں دشمن کے کئی ٹینک تباہ کر کے اپنا اسکواڈرن بچا لیا۔بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد کے مطابق چار ٹینک ہمارے اسکوارڈن کے پیچھے تھے اور انہیں علم نہیں تھا کہ میں ان کے پیچھے ہوں، میں نے اللہ کا نام لیا اور فائر شروع کر دیا، ایک ایک گولے میں ایک ایک ٹینک تباہ کیا۔ ستارہ جرات حاصل کرنے والے بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد جلتے ٹینک سے اپنے سپاہی کوبھی نکال لائے۔ان کا کہنا ہے کہ دشمن کا گولہ میرے ٹینک پر لگا اور immunition explode ہو گیا۔ میں نے سب کو کہا بیل آئوٹ، بیل آئوٹ اور ہم باہر آ گئے۔ میں نے دیکھا میرا لوڈر ٹینک کی کینوپی سے چلا رہا ہے، میں بھاگ کر گیا، ٹینک جل رہا تھا اور بہت گرم تھا،میرے ہاتھ کا گوشت ٹینک کے ساتھ رہ گیا مگر میں نے اسے کندھے پر بٹھایا اور نکال لایا، چند سیکنڈ بعد ہی دھماکہ ہوا۔1965 کے اس غازی کی بس اک حسرت رہ گئی اور وہ تھی شہادت۔انہوں نے روتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یاد ہے کہ جب اسپتال میں تھا تو میرے آنسو نہیں رکتے تھے ، واپس جانا چاہتا تھا، مگر شدید زخمی تھا۔ وہ سترہ دن گواہ ہیں کہ پاک فوج نے انتہائی کم تعداد اور معمولی جنگی سامان کے ساتھ دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…