جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

1965ء کی جنگ کے غازی کی کہانی، غازی کی زبانی

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) 1965 کی جنگ میں پاکستان نے گھمنڈی دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، ہر سپاہی، ہر افسر نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، کسی نے ارض پاک پر جان وار دی تو کوئی غازی ٹھہرا۔ ایسے غازیوں میں سے ایک ہیں بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد (ستارہ جرات)۔ وہ کہتے ہیں کہ موت میرے سامنے تھی، میں نے فیصلہ کیا کہ If I’ll die, I’ll die attacking them.چونڈہ کا محاذ، ٹینکوں کی بڑی جنگ، مد مقابل کئی گنا بڑی فوج ، دشمن پہ ارض پاک کا اک اک جوان بھاری پڑا۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد کے مطابق دوٹینک میری طرف آ رہے تھے، میرے ٹینک کی گن ناکارہو چکی تھی اور میں اکیلا تھا، لیکن فیصلہ کیا کہ بھاگنا نہیں اور میں آگے بڑھا، مجھے بڑھتا دیکھ کر نجانے بھارتی فوجیوں کے دل میں کیا آیا کہ وہ پیچھے چلے گئے۔ موقع ملتے ہی غازی محمد احمد نے اپنا ٹینک ایک نالے میں گھسایا اور اس کی گن کی پن تبدیل کر لی ، پھر چند منٹ میں دشمن کے کئی ٹینک تباہ کر کے اپنا اسکواڈرن بچا لیا۔بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد کے مطابق چار ٹینک ہمارے اسکوارڈن کے پیچھے تھے اور انہیں علم نہیں تھا کہ میں ان کے پیچھے ہوں، میں نے اللہ کا نام لیا اور فائر شروع کر دیا، ایک ایک گولے میں ایک ایک ٹینک تباہ کیا۔ ستارہ جرات حاصل کرنے والے بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد جلتے ٹینک سے اپنے سپاہی کوبھی نکال لائے۔ان کا کہنا ہے کہ دشمن کا گولہ میرے ٹینک پر لگا اور immunition explode ہو گیا۔ میں نے سب کو کہا بیل آئوٹ، بیل آئوٹ اور ہم باہر آ گئے۔ میں نے دیکھا میرا لوڈر ٹینک کی کینوپی سے چلا رہا ہے، میں بھاگ کر گیا، ٹینک جل رہا تھا اور بہت گرم تھا،میرے ہاتھ کا گوشت ٹینک کے ساتھ رہ گیا مگر میں نے اسے کندھے پر بٹھایا اور نکال لایا، چند سیکنڈ بعد ہی دھماکہ ہوا۔1965 کے اس غازی کی بس اک حسرت رہ گئی اور وہ تھی شہادت۔انہوں نے روتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یاد ہے کہ جب اسپتال میں تھا تو میرے آنسو نہیں رکتے تھے ، واپس جانا چاہتا تھا، مگر شدید زخمی تھا۔ وہ سترہ دن گواہ ہیں کہ پاک فوج نے انتہائی کم تعداد اور معمولی جنگی سامان کے ساتھ دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…