اسلام آباد(نیوزڈیسک)الطاف حسین کےخلاف لندن میں متحرک سرفراز مرچنٹ کا ایک ا دوست انیس ایڈووکیٹ تھا‘ انیس ایڈووکیٹ ایم کیو ایم کے رابطہ کمیٹی کے ممبر رہاہے‘ یہ الطاف حسین کے قریبی ترین دوستوں میں بھی شمار ہوتا ہے لندن میں الطاف حسین کے خلاف جتنے مقدمات چل رہے ہیں‘ ان میں انیس ایڈووکیٹ بھی دوسرے ملزمان محمد انور ‘ افتخار قریشی‘ سرفراز احمداور طارق میر کے ساتھ زیر تفتیش ہیں‘ لندن میں 16 ستمبر 2010ئکو جب ڈاکٹر عمران فاروق قتل ہوئے تو اس دن بھی ڈاکٹر عاصم‘ انیس ایڈووکیٹ اور سرفراز مرچنٹ نے میریٹ ہوٹل پارک لین میں اکٹھے لنچ کیا‘ لندن پولیس نے جون 2013ءمیں الطاف حسین کے گھر اور دفتر میں چھاپہ مارا اور دونوں جگہوں سے پاﺅنڈ برآمد ہو گئے‘ الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس بن گیا‘ کیس بننے کے چند دن بعد سرفراز مرچنٹ نے یہ بیان دے دیا ”ایم کیو ایم کے سیکرٹریٹ سے برآمد ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ میرا تھا اور یہ میں نے ڈونیشن دیا تھا“ اس بیان کے ساتھ ہی سرفراز مرچنٹ بھی انکوائری کا حصہ بن گیا‘جاویدچوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ مرچنٹ نے بعد ازاں ایم کیو ایم کے اکاﺅنٹ میں ساڑھے چار لاکھ پاﺅنڈ بھی جمع کرائے‘ سکاٹ لینڈ یارڈ نے جب مرچنٹ سے اس رقم کے بارے میں پوچھا تو یہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا اور یوں اس کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا‘ سکاٹ لینڈ یارڈ مرچنٹ کے انیس ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر عاصم کے ساتھ تعلقات سے بھی آگاہ ہے اور یہ بھی جانتی ہے سرفراز مرچنٹ پابندی کے باوجود جعلی پاسپورٹ پر پاکستان آتا رہا اور اسے آتے اور جاتے وقت خصوصی پروٹوکول بھی دیا جاتا تھا‘ یہ کراچی میں ڈاکٹر عاصم کا مہمان ہوتا تھا‘ یہ روزانہ ان کے ہسپتال جاتا تھا اور ہسپتال کی آخری منزل پر ڈاکٹر عاصم کا دفتر اس کا ٹھکانہ ہوتا تھا‘ یہ دونوں کاروباری ملاقاتیں بھی اسی جگہ کرتے تھے‘ اب سوال یہ ہے‘ کیا ڈاکٹر عاصم‘ سرفراز مرچنٹ اور انیس ایڈووکیٹ تینوں ایک ہی لڑی کے موتی ہیں اور یہ لڑی بھتہ خوری‘ ٹارگٹ کلنگ اور اغوائ برائے تاوان کی وارداتیں ہیں‘ یہ فیصلہ سرے دست ممکن نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ لندن اور کراچی دونوں جگہوں پر بیک وقت تفتیش چل رہی ہے‘ اس تفتیش کا نتیجہ کہانی کو پوری طرح کھول دے گا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنے حلقوں میں یہ سرگوشیاں ہیں‘ پاکستان پیپلز پارٹی کو افہام و تفہیم کی سیاست کی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی تھی‘ یہ قیمت بعض اوقات روزانہ‘ بعض اوقات ہفتہ وار اور بعض اوقات ماہانہ ہوتی تھی اور اس قیمت کا چینل ڈاکٹر عاصم‘ سرفراز مرچنٹ اور انیس ایڈووکیٹ تھے‘ یہ سرگوشی بھی عام ہے‘ لیاری گینگ کے ملزمان نے اعتراف کیا‘ ہمیں ڈاکٹر عاصم کے ہسپتال کی ایمبولینس میں اسلحہ سپلائی کیا جاتا تھا‘ ڈاکٹر عاصم کے ہسپتال میں گینگ وار کے زخمیوں کاعلاج بھی ہوتا تھا اور حکیم سعید کے قاتلوں کو بھی اسی ہسپتال میں پناہ دی گئی تھی‘ یہ سرگوشی بھی عام ہے‘ ڈاکٹر عاصم کا نام سرفراز مرچنٹ نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے لیا اور ان کی گرفتاری کی لیڈ کراچی سے نہیں بلکہ لندن سے آئی تھی۔
ڈاکٹرعاصم حسین کاکچہ چھٹہ سکارٹ لینڈیارڈکوکس نے دیا؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تیل کی قیمتیں مزیدکم ہوں گی،وزیر مملکت نے خوشخبری سنادی
-
مڈل کلاس طبقے کے لیے اب امپورٹڈ گاڑی خریدنا آسان؟ بڑی خوشخبری آگئی
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کردیا
-
یکم جولائی کے بعد پاسپورٹ دفاتر جانے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
ملازمین کیلیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبز؛ کتنی تنخواہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی؟
-
3 روزہ تعطیلات کا اعلان
-
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑی کمی
-
شہباز شریف نےصدر زرداری کو چھتری دینے سے انکار کر دیا، نور خان ائیر بیس پر دلچسپ صورتحال
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بھارتی شہری کوایئرلائن کی میزبان سے چھیڑچھاڑ مہنگی پڑ گئی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی
-
لکی موٹرز کا Kia Sportage L Alpha کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان



















































