جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نندی پور پاور منصوبہ 57 ارب روپے کھا گیا، بند کیوں پڑا ہے؟

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) نندی پور پاور پراجیکٹ 57ارب روپے کھا چکا ، پھر بھی بند کیوں پڑا ہے ؟ وزارت پانی و بجلی نے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے ذمہ دار ایم ڈی کو ٹھہرا دیا، 3 دن میں جواب طلب کر لیا گیا۔ نندی پور پاور پراجیکٹ ہے 425 میگاواٹ کا مگر یہ بس دکھاوا ہی نکلا، اتنی بجلی پیدا کرنے کی تو صلاحیت ہی نہیں،وجہ نکلی پراجیکٹ انتظامیہ کی غفلت ، نا اہلی اور معاملات کو دبائے رکھنا۔ وزارت پانی وبجلی نے نندی پور پاور پراجیکٹ کے ایم ڈی محمد محمود کو چارج شیٹ کر دیا، وضاحت دینے کے لیے دن ملے ہیں صرف 3 ۔ ایم ڈی سے پوچھا گیا ہے کہ چینی کمپنی ڈونگ فنگ کو کنٹریکٹ دینے میں قواعد و ضوابط نظر انداز کر کے انتہائی نرمی کیوں برتی گئی؟کنٹریکٹر نے پاور پلانٹ کو فیول فراہم کرنے والا یونٹ کم صلاحیت کا لگایا ، بجلی کی پیداوار کم ہوئی ، معاملہ پراجیکٹ انتظامیہ کے علم میں تھا مگر اسے اعلیٰ حکام سے خفیہ رکھا گیا ، کیوں؟ قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوا اور اب بھی ہو رہا ہے، کنٹریکٹرکو جرمانہ تک نہ کیا گیا، کیوں؟ نندی پور انتظامیہ اضافی سکڈز لگاکرمنصوبے کے نقائص دور کرنے میں ناکام رہی ، کیوں؟ وزارت پانی و بجلی کے مطابق نندی پور پاور پلانٹ چلانے کا انتظام آؤٹ سورس کرنے کے لیے جو ٹینڈر جاری ہوئے ان میں بھی غلطیاں پائی گئیں۔ نندی پور پاور پلانٹ آزمائشی پیداوار کے بعد بند پڑا ہے، بجلی نہیں بنے گی اور نہ بکے گی تو منصوبے کے قرضوں کی واپسی کیسے ہو گی؟ وزارت پانی و بجلی نے کہا ہے کہ نندی پور پاور پلانٹ کی انتظامیہ ناکام ہوئی، ایم ڈی جواب دیں اور وہ بھی 3 دن کے اندر۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…