منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

وہ فعل جو موت کے امکانات کم کرے

datetime 26  اکتوبر‬‮  2016 |

لند ن(نیوزڈیسک) انسان ہمیشہ لمبی سے لمبی زندگی کا خواہشمند رہتاہے لیکن موت کا ایک دن مقررہے اور ایسے میں سائنسدانوں نے موت کے امکانات کو کم کرنے اور صحت مند زندگی کے آسان نسخہ کی تصدیق کردی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق یورپ میں وزرش نہ کرنے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں موٹاپے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں سے ممکنہ طور پر دوگنی ہیں،یہ نتائج 12 سال جاری رہنے والی تحقیق کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں تین لاکھ سے زیادہ افراد کا تجزیہ کیا گیا۔برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ یورپ میں ہر سال چھ لاکھ 76 ہزار افراد ورزش نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں جبکہ موٹاپے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 3 لاکھ 37 ہزار ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ورزش وزن سے قطع نظرہر شخص کے لیے مفید ہے اور روزانہ 20 منٹ تیز چلنے کے صحت پر نہایت مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عموماً موٹاپے کا شکار افراد کے وزرش سے دور رہنے کی بات کی جاتی ہے لیکن دبلے افراد میں ورزش نہ کرنے کی وجہ سے بیمار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔طبی غذائیت کے امریکی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق محققین نے 12 برس میں تین لاکھ چونتیس ہزار ایک سو اکسٹھ افراد پر نظر رکھی۔اس دوران انھوں نے ان کے ورزش کے معمولات، کمر کے حجم اور اموات کا ریکارڈ رکھا۔ایک محقق پروفیسر الف اکیلنڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جلد موت کا خطرہ ان افراد میں زیادہ پایا گیا جو ورزش نہیں کرتے تھے چاہے ان کا وزن معمول کے مطابق تھا یا وہ موٹاپے کا شکار تھے۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یورپی باشندے باقاعدگی سے ورزش کرنے لگیں تو براعظم میں شرحِ اموات میں ساڑھے سات فیصد کمی ہو سکتی ہے جبکہ موٹاپے کے خاتمے سے یہ کمی تین اعشاریہ چھ فیصد ہی ہوگی۔ناروے میں مقیم پروفیسر اکیلنڈ خود بھی ہر ہفتے پانچ گھنٹے سخت ورزش کرتے ہیں۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کے لیے روزانہ بیس منٹ کی جسمانی مشقت جیسے کہ تیز چلنا کافی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صحت کے لیے لوگ دن کے 24 گھنٹوں میں سے اتنا وقت تو نکال ہی سکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…