اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنا معجزہ ، چیف جسٹس آف پاکستان نےحکومتی وکیل کو سپریم کورٹ کے باہر بڑی سکرین لگانے کی پیشکش کردی

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد، سڈنی (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنا واقعی ایک قومی معجزہ ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بنچ نے نیب قانون میں حالیہ ترامیم کیخلاف کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سیمی فائنل پر پہنچنے کا تذکرہ ہوا۔حکومتی وکیل نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ایک معجزے کے تحت سیمی فائنل میں پہنچ گئی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا ہاں جی کل کتنے بجے میچ ہے؟ اگر آپ کہیں تو ہم آپ کیلئے سپریم کورٹ کے باہر میچ دیکھنے کیلئے اسکرین لگوا دیتے ہیں، امید ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے کوئی اچھی خبر سامنے آئے گی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنا واقعی ایک قومی معجزہ ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریک انصاف کے وکیل سے کہا کہ اگر آپ کو برا نہ لگے تو آپ دلائل دیجیے گا ہم میچ دیکھیں گے۔یاد رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا پہلا سیمی فائنل کل پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سڈنی میں کھیلا جائے گا جو کہ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان اب تک 28 ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جاچکے ہیں جن میں پاکستان کا ریکارڈ نیوزی لینڈ سے کافی بہتر ہے۔پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف 17میچ جیتے جبکہ 11میں گرین شرٹس کو شکست ہوئی۔ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کا نیوزی لینڈ کے خلاف سب سے زیادہ 201 جبکہ کم ترین اسکور 101 ہے۔پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری میچ گزشتہ ماہ ورلڈ کپ سے پہلے سہ ملکی سیریز میں کھیلا گیا تھا۔سہ ملکی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 5وکٹ سے شکست دی تھی، اس میچ میں محمد نواز کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا تھا جو اب بھی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے پاکستان اسکواڈ میں شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…