منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

ماس ٹرانسپورٹ سسٹم،خیبر پختونخوا حکومت کی تجویز وفاقی حکومت نے مسترد کر دی

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (بی او آئی ٹی) کو ہدایت کی ہے کہ وہ نجی شعبہ کی شراکت سے شروع کئے جانے والے منصوبوں کے اجراءاور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدوں کےلئے مرو جہ قوانین اور قواعد کی سختی سے پابندی کرے۔ انہوں نے بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ پشاور ویلی کے چار شہروں کے درمیان ڈبل کیرج سرکلر ریلوے سروس شروع کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے صوبائی دارالحکومت پشاور میں زیر زمین برق رفتار ریلوے سسٹم قائم کرنے کی پیشکش کا بھی تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کے پی۔بی او آئی ٹی کے اجلاس کی صدات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چمکنی سے حیات آباد تک موجودہ ریلوے لائن پر ماس ٹرانسپورٹ سسٹم کے قیام سے متعلق خیبر پختونخوا حکومت کی تجویز وفاقی حکومت نے مسترد کر دی ہے اس لئے مواصلات کے شعبے میں ان تمام تجاویز پر اپنی توانائیاں صرف نہ کی جائیں جنہیں وفاقی حکومت نے ناقابل عمل قرار دے دیا یا ان پر غور میں لیت و لعل سے کام سے کام لیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزارت ریلوے کو پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کے درمیان ڈبل کیرج سرکلر ریلوے نظام قائم کرنے کےلئے صوبائی حکومت کے مجوزہ منصوبے پر آمادہ کر لیا گیا ہے اسلئے اس منصوبے پر کام تیز کر دیا جائے۔ اجلاس کے دوران دبئی انوسٹمنٹ روڈ شو کے نتائج، مالم جبہ تفریحی پراجیکٹ میں پیش رفت اور سیاحت، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں دیگر مجوزہ منصوبوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان کے آغاز میں رکاوٹیں دور کرنے اور ان پر کام کی رفتار تیز کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ ان منصوبوں میں جنوبی اضلاع میں آئل ریفائنری کا قیام، نتھیا گلی تھیم پارک، ہنڈ، ضلع صوابی میں ٹورسٹ تفریحی پارک، ایوبیہ پارک، ناران چیئرلفٹ اور بھیڑ بکریوں اور کھجوروں کے فارم شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان منصوبوں کےلئے سرمایہ کاروں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کر دیا گیا ہے اور ان کی بولی کا عمل بھی جلد شروع ہو گا۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بورڈ کو سختی سے ہدایت کی کہ مختلف منصوبوں کےلئے نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدوں کے وقت مروجہ قواعد اور قوانین پر سختی سے عمل کرے اور اس مقصد کےلئے قانونی ماہرین کی مستقل خدمات حاصل کرے۔ انہوں نے بورڈ اور محکمہ جنگلات سے کہا کہ وہ مالم جبہ منصوبے کی اراضی کے متنازعہ حصہ کے حصول کےلئے بھی اقدامات کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…