بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

ملالہ یوسفزئی کی خواتین کو سیاست میں آنے کی دعوت

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) دنیا میں سب سے کم عمری میں نوبل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے کہاہے کہ لڑکیوں کو چاہئے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد کرنا شروع کریں، سیاست سمیت ہر شعبے میں حصہ لینے کے لیے مزید عورتوں کو آگے آنا چاہئے۔امریکی نشریاتی ادارہ کو ایک انٹرویو میں ملالہ کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ مردوں اور عورتوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا اہم ہے۔ مردوں کو یہ چاہیے کہ وہ عورتوں کو وہ جگہ دیں جو ان کا حق ہے۔ یہ اجتماعی کام ہے اور مجھے امید ہے کہ معیاری تعلیم اور ذہنیت بدلنے کے ساتھ ہم یہ تبدیلی دیکھیں گے اور ہم دیکھیں گے کہ عورتیں وہ کردار ادا کر رہی ہیں جو ان کا حق ہے۔انہوں نے اپنے والد کے بارے میں کہا کہ انہوں نے اپنے حقوق کے لیے بولنے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی مگر مجھ پر دباو¿ نہیں ڈالا، مجھے مجبور نہیں کیا۔ میں نے ان سے سیکھا ہے اور جو کردار میں نے ادا کیا وہ ان کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہی ہے۔ملالہ کے ساتھ ان کے والدین اور دو بھائی بھی موجود تھے۔ ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے کہا کہ ملالہ پر حملے کا دن ان کی بیٹی کی زندگی کا ”سخت ترین اور برا ترین دن“ تھا۔ملالہ کی زندگی پر حال ہی میں ایک دستاویزی فلم ”ہی نیمڈ می ملالہ“ریلیز ہوئی ہے جس سے ان کا پیغام پھیل رہا ہے۔ اس فلم کا اردو میں مطلب ’انہوں نے میرا نام ملالہ رکھا‘ ہے۔ملالہ کا نام پشتون قوم کی ایک بہادر خاتون ملالئی کی نسبت سے رکھا گیا تھا جس نے انیسویں صدی میں انگریزوں کے خلاف افغانستان کے جنگجوو¿ں کو منظم کیا تھا۔جولائی میں ملالہ 18 سال کی ہوئیں اور حال ہی میں انہوں نے او لیول کے امتحان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تقریب کے حاضرین کو بتایا کہ وہ عورتوں کے حقوق کے لیے دنیا کا سفر جاری رکھیں گی اور اس وقت کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں جب وہ بحفاظت پاکستان جا سکیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…