منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

حلال و حرام گوشت کی پہچان کیسے کی جائے ؟جانیئےاس خبر میں

datetime 29  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آج کل مردہ اور حرام مرغی کا گوشت عام سی بات ہے لیکن شہری حلال اور حرام گوشت میں امتیاز سے ناواقف ہیں، پراب مندرجہ زیل امتیاز سے آپ یہ جان سکتے ہیں۔پہلی قابل ذکر بات تو یہ کہ حرام مرغی کا گوشت قدرے نیلا ہوتا ہے جبکہ حلال کی گئی مرغی کا گوشت گلابی یا ہلکا پیلا ہوگا جس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی طریقے سے حلال کی گئی مرغی کا سارا خون باہر نکل جاتا ہے اور صرف گوشت کا رنگ ہی رہ جاتا ہے۔حرام مرغی یا غلط طریقے سے کٹنے والی مرغی کا خون جسم سے باہر نہیں نکل پاتا اور اندر ہی رہ جانے کی صورت میں جم جاتا ہے اور وہ خون جمنے کی صورت میں قدرتی طور پر نیلا پڑجاتا ہے۔حرام مرغیوں کیلئے بیوپاری حضرات ”ٹھنڈی مرغی یا اکھ میٹی”کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح پریشر والے گوشت کا رنگ ہلکا گلابی ہوگا، اگر پریشر نہ لگاہو گا تو مرغی کے گوشت کا رنگ شوخ گلابی ہو گا-اسی طرح گائے کے گوشت میں پریشر والا گوشت بنانے کیلئے قصاب پانی کا پائب جانور کو ذبح کرنے کے بعد شہہ رگ میں ڈال کر پانی چھوڑتے ہیں جس کی وجہ سے پانی پورے دباﺅ کے ساتھ ہر چھوٹی بڑی رگ میں پہنچ جاتا ہے اور یہ بھی ناجائز منافع خوری میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس سے گوشت کا وزن بڑھ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…