پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن کے غیر رسمی اجلاس کی کہانی مصدقہ ذرائع کی زبانی

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ) الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پیر کی دوپہر کوئی باضابطہ اجلاس منعقد نہیں ہوا کمیشن کے ترجمان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر مسٹر جسٹس سردار محمد رضاکے کمرے میں روزانہ گیارہ بجے دن الیکشن کمیشن کے فاضل ممبر صاحبان چائے اکٹھے بیٹھ کر پیتے ہیں اسے فارمل میٹنگ کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ پیر کو گیارہ بجے بلوچستان کے ممبر الیکشن کمیشن کے علاوہ پنجاب سندھ خیبرپختونخوا کے کمیشن ممبروں نے چیف الیکشن کمشنر کے کمرے میں چائے نوش کی جس کے دوران الیکشن کمیشن کے 3 فاضل ممبر صاحبان سے چیف الیکشن کمشنر نے تحریک انصاف کی طرف سے استعفوں کے مطالبے چینل پر ایک سیاسی لیڈر کی کمیشن کے ارکان کے بارے میں غیر شائستہ زبان کے استعمال پر مشاورت ہوئی، سبھی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ الیکشن کمیشن آئین کے تحت بنا ہے اس کے ممبروں کی تقرری اور برخاستگی کا آئین میں طریقہ کار درج ہے آئین کے آرٹیکل 213 کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبر کی تقرری ہوتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کسی ممبر کو برخاست کیا جاسکتا ہے۔ غیر رسمی مشاورت میں چیف الیکشن کمشنر اور تینوں صوبوں کے ممبروں جسٹس (ر) شہزاد اکبر (کے پی کے) جسٹس (ر) ریاض کیانی (پنجاب) اور محمد روشن عیسانی (سندھ) نے کہا کہ کچھ عناصر الیکشن کمیشن جیسے آئینی اداروں کے خلاف منظم سازش کرکے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے چوتھے رکن مسٹر جسٹس (ر) فضل الرحمٰن مشا و ر ت میں شریک نہ ہوسکے وہ اپنے بیٹے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تربت ایمل خان کی دل کے دورے کے نتیجے میں ایک ماہ قبل موت کے بعد دو ماہ کی رخصت پر ہیں، اس لئے مشاورت میں تین ممبر اور چیف الیکشن کمشنر موجود رہے تمام ممبروں نے متفقہ طور پر چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ مشاورت میں کہا کہ مئی 2013ء کے الیکشن انہوں نے پوری دیانتداری ایمانداری سے منعقد کرائے لیکن کوتاہیاں ہر انسان سے ممکن ہیں ہم سمجھتے ہیں ہم نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق جنرل الیکشن کرائے تینوں ارکان کا تقرر پانچ سال کیلئے جون 2011ء میں آئین کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے کیا تھا جس میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کو نمائندگی حاصل تھی۔ چیف الیکشن کمشنر مسٹر جسٹس سردار رضا البتہ دسمبر 2014ئ میں آئین کے مطابق 5 سال کیلئے مقرر ہوئے، تینوں ممبروں کی ریٹائرمنٹ میں صرف 11 ماہ رہ گئے ہیں تینوں ممبروں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ اگر آئینی اداروں کے ممبروں کو دھونس دھاندلی دھرنے جلسے جلوس سے ہٹانے کا رجحان ایک دفعہ پیدا ہوگیا تو پھر یہ سلسلہ چل نکلے گا اور ملک انارکی انتشار بے یقینی کی کیفیت سے دو چار ہو جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس رجحان کو سر اٹھاتے ہی اسے کچل کر رکھ دیا جائیگا۔ سبھی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ممبروں سے استعفوں کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ ان کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھجوا کر کونسل سے گند گاری کا فیصلہ لے کر ہی ہٹایا جاسکتا ہے ممبران نے کہا کہ وہ اس بات پر قائم ہیں کہ انہوں نے اپنی بساط صلاحیت استعداد کے مطابق اللہ کو حاضر ناظر جان کر آزادانہ منصفانہ شفاف الیکشن مئی 2013 میں کرائے، البتہ نہ صرف پا کستان بلکہ ہمارے ہمسائے ملک حتیٰ کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی الیکشن کے دورن کچھ خامیاں سقم کوتائیاں ہو جاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…