اسلام آباد (سپیشل رپورٹ) الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پیر کی دوپہر کوئی باضابطہ اجلاس منعقد نہیں ہوا کمیشن کے ترجمان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر مسٹر جسٹس سردار محمد رضاکے کمرے میں روزانہ گیارہ بجے دن الیکشن کمیشن کے فاضل ممبر صاحبان چائے اکٹھے بیٹھ کر پیتے ہیں اسے فارمل میٹنگ کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ پیر کو گیارہ بجے بلوچستان کے ممبر الیکشن کمیشن کے علاوہ پنجاب سندھ خیبرپختونخوا کے کمیشن ممبروں نے چیف الیکشن کمشنر کے کمرے میں چائے نوش کی جس کے دوران الیکشن کمیشن کے 3 فاضل ممبر صاحبان سے چیف الیکشن کمشنر نے تحریک انصاف کی طرف سے استعفوں کے مطالبے چینل پر ایک سیاسی لیڈر کی کمیشن کے ارکان کے بارے میں غیر شائستہ زبان کے استعمال پر مشاورت ہوئی، سبھی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ الیکشن کمیشن آئین کے تحت بنا ہے اس کے ممبروں کی تقرری اور برخاستگی کا آئین میں طریقہ کار درج ہے آئین کے آرٹیکل 213 کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبر کی تقرری ہوتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کسی ممبر کو برخاست کیا جاسکتا ہے۔ غیر رسمی مشاورت میں چیف الیکشن کمشنر اور تینوں صوبوں کے ممبروں جسٹس (ر) شہزاد اکبر (کے پی کے) جسٹس (ر) ریاض کیانی (پنجاب) اور محمد روشن عیسانی (سندھ) نے کہا کہ کچھ عناصر الیکشن کمیشن جیسے آئینی اداروں کے خلاف منظم سازش کرکے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے چوتھے رکن مسٹر جسٹس (ر) فضل الرحمٰن مشا و ر ت میں شریک نہ ہوسکے وہ اپنے بیٹے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تربت ایمل خان کی دل کے دورے کے نتیجے میں ایک ماہ قبل موت کے بعد دو ماہ کی رخصت پر ہیں، اس لئے مشاورت میں تین ممبر اور چیف الیکشن کمشنر موجود رہے تمام ممبروں نے متفقہ طور پر چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ مشاورت میں کہا کہ مئی 2013ء کے الیکشن انہوں نے پوری دیانتداری ایمانداری سے منعقد کرائے لیکن کوتاہیاں ہر انسان سے ممکن ہیں ہم سمجھتے ہیں ہم نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق جنرل الیکشن کرائے تینوں ارکان کا تقرر پانچ سال کیلئے جون 2011ء میں آئین کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے کیا تھا جس میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کو نمائندگی حاصل تھی۔ چیف الیکشن کمشنر مسٹر جسٹس سردار رضا البتہ دسمبر 2014ئ میں آئین کے مطابق 5 سال کیلئے مقرر ہوئے، تینوں ممبروں کی ریٹائرمنٹ میں صرف 11 ماہ رہ گئے ہیں تینوں ممبروں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ اگر آئینی اداروں کے ممبروں کو دھونس دھاندلی دھرنے جلسے جلوس سے ہٹانے کا رجحان ایک دفعہ پیدا ہوگیا تو پھر یہ سلسلہ چل نکلے گا اور ملک انارکی انتشار بے یقینی کی کیفیت سے دو چار ہو جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس رجحان کو سر اٹھاتے ہی اسے کچل کر رکھ دیا جائیگا۔ سبھی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ممبروں سے استعفوں کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ ان کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھجوا کر کونسل سے گند گاری کا فیصلہ لے کر ہی ہٹایا جاسکتا ہے ممبران نے کہا کہ وہ اس بات پر قائم ہیں کہ انہوں نے اپنی بساط صلاحیت استعداد کے مطابق اللہ کو حاضر ناظر جان کر آزادانہ منصفانہ شفاف الیکشن مئی 2013 میں کرائے، البتہ نہ صرف پا کستان بلکہ ہمارے ہمسائے ملک حتیٰ کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی الیکشن کے دورن کچھ خامیاں سقم کوتائیاں ہو جاتی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے غیر رسمی اجلاس کی کہانی مصدقہ ذرائع کی زبانی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
تیل کی قیمتیں مزیدکم ہوں گی،وزیر مملکت نے خوشخبری سنادی
-
مڈل کلاس طبقے کے لیے اب امپورٹڈ گاڑی خریدنا آسان؟ بڑی خوشخبری آگئی
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
یکم جولائی کے بعد پاسپورٹ دفاتر جانے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کردیا
-
ملازمین کیلیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبز؛ کتنی تنخواہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی؟
-
اواتار مائونٹین
-
3 روزہ تعطیلات کا اعلان
-
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑی کمی
-
شہباز شریف نےصدر زرداری کو چھتری دینے سے انکار کر دیا، نور خان ائیر بیس پر دلچسپ صورتحال
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بھارتی شہری کوایئرلائن کی میزبان سے چھیڑچھاڑ مہنگی پڑ گئی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی



















































