بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر سے کھیلا جاتا رہا، نجی بینکوں کے56ارب روپے کا منافع کمائے جانے کا انکشاف

datetime 4  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر سے کھیلا جاتا رہا،نجی بینکوں کے56ارب روپے کا منافع کمائے جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستانی کرنسی روپے سے کھیلا جاتا رہا ہے اور ڈالر کی بڑھتی قیمت سےنجی بینکوں کے

اس موقعے سے خوب فائدہ اٹھایا ہے ۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ڈالر کی قیمت میں اضافے کےحوالے سے نجی بینکوں سے تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ بینکوں نے ایل سیز کھولنے کے لیے انٹر بینک ریٹ سے اضافی رقم وصول کی۔دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ڈالرکی اصل قدر200 روپیسے کم ہے اور آئندہ دنوں میں ڈالر 200 روپیسے کم ہوجائے گا ،مجھے آئی ایم ایف کو ڈیل کرنا آتا ہے،کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈالرکی اس وقت جو قدر ہے وہ حقیقی نہیں ہے، امریکی کرنسی کی اصل قدر 200 روپے سے کم ہے، ڈالر کو اصل قیمت پر لانے کے لیے جامع حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہاکہ نوازشریف کا علاج ہورہا ہے اور جیسے ہی نوازشریف کا علاج مکمل ہوگا وہ وطن واپس آئیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح مریم نواز شریف کو انصاف ملا ہے امید ہے نوازشریف کو بھی انصاف ملے گا ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈیل اور ڈھیل صرف عمران خان کی قسمت میں ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہر بات کا جواب دے سکتا ہوں، یہ میری وارننگ کو سنجیدگی سے لیں ورنہ اس کے ساتھ پبلک میں جنگ ہوگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان آپ وہیں ہیں ناں،

جو میرے دفتر کے باہر میرا انتظار کرتے تھے، اپنا منہ بند رکھیں اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر بات کریں۔انہوں نے کہا کہ این آر او عمران خان نے اپنی فیملی کو دیا ہے، پی ٹی آئی چیئرمین نے نے ڈیل کرکے

مینار پاکستان سے خود کو لانچ کیا تھا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان نے ڈیل کرکے الیکشن لڑا اور ڈیل کے تحت ہی نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…