جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد 25 لاکھ تک پہنچ گئی

datetime 16  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔پاکستان میں قبائلی علاقوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے بعد ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد لگ بھگ 25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی تعداد ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے تاہم اب تک ان کی واپسی کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ان متاثرین کی ایک بڑی تعداد اپنے طور پر کرائے کے مکانات، رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں مقیم ہیں جبکہ چھ ہزار سے زیادہ خاندان پشاور کے قریب جلوزئی کیمپ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔خیبر ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع علاقہ شیخان سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان کے علاقے میں ایسا کوئی گھر یا حجرہ نہیں ہے جو خالی ہو یہاں تک کہ بڑی تعداد میں لوگ خستہ حال مکانات میں بھی مقیم ہیں۔ماضی میں سوات اور باجوڑ ایجنسی میں کیے گئے فوجی آپریشنز کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی تعداد حالیہ فوج آپریش سے بڑھ گئی ہے۔ اس وقت رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ متاثرین کی تعداد 25 لاکھ تک ہے۔فاٹا ریسرچ سینٹر کے محقق فضل سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی میں سوات اور باجوڑ ایجنسی میں کیے گئے فوجی آپریشنز کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی تعداد حالیہ فوج آپریش سے بڑھ گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ’اس وقت متاثرین کی رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ تعداد 25 لاکھ تک ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دو لاکھ 88 ہزار 6 سو خاندان بے گھر ہیں، لیکن اس میں یہ دیکھنا پڑے گا کہ اس میں خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے دس ہزار خاندان تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے شامل نہیں جبکہ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایسے خاندانوں کی تعداد 25 ہزار ہے اور اگر ان کی بھی شامل کیا جائے تو ایسے خاندانوں کی تعداد 3 لاکھ 24 ہزار کے قریب بنتی ہے اور فی خاندان کو 8 سے ضرب دی جائے تو یہ کل تعداد 25 لاکھ 92 ہزار افراد بنتے ہیں۔‘فضل سعید کے مطابق ان خاندانوں نے نقل مکانی کرنے کے بعد اپنی اندراج تو کرایا ہے لیکن نامکمل دستاویزات( شناختی کارڈ) کی وجہ سے نادرا ان کی تصدیق نہیں کر سکی۔
جلوزئی کیمپ میں مقیم حاجی گلبت خان آفریدی نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں تین ہزار خاندان کیمپ میں پہنچے ہیں جن میں بیشتر عدم سہولیات کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ متاثرین کا موقف ہے پہلے قبائلی عمائدین اور رہنما واپس اپنے علاقوں کو جائیں گے تاکہ معلوم ہو سکے کہ علاقے میں اب مکمل امن قائم ہے جس کے بعد متاثرین خود واپس چلے جائیں گے۔
ان متاثرین کی واپسی کے حوالے سے اب تک کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا ہے تاہم افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ متاثرین کی واپسی جلد ہو سکتی ہے۔
شمالی وزیرستان جرگے کے رہنما ملک جانفراز وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اور سکیورٹی حکام متاثرین کی واپسی کے لیے ان پر کچھ ذمہ داریاں ڈالنا چاہتی ہے لیکن انھیں نہیں معلوم کہ یہ کیا ذمہ داریاں ہوں گی؟
انھوں نے کہا کہ عمائدین نے اس مہینے کے اوائل میں کہا تھا کہ حکومت انھیں ان ذمہ داریوں کی تفصیل بتائے اور اگر یہ ذمہ داریاں انگریز کے دور کے قانون ایف سی آر کے مطابق ہیں تو اس صورت میں وہ یہ ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہیں۔
فوجی حکام کے مطابق شمالی وزیرستان کا بڑا علاقہ شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے جہاں اب تک 1200 سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں جبکہ خیبر ایجنسی میں اب بھی فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…