پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

موٹاپے پر قابو پانے کے حوالے سے نئے طریقہ علاج تشکیل

datetime 27  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)موٹاپا کس کو پسند ہوتا ہے بیشتر افراد تو اس سے نجات کے لیے ڈائٹنگ سے لے کر ورزشوں تک کا طریقہ اپناتے ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا مگر ایک چیز ایسی ہے جو اس مشکل کو حل کرسکتی ہے۔جی ہاں کیا آپ کو معلوم ہے کہ موٹاپے سے بچاﺅ کا نسخہ تو آپ کے باورچی خانے میں ہی موجود ہوتا ہے؟ اور وہ ہے مرچ۔آسٹریلیا کی ایڈیلیڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق مرچ مصالحے سے بھرپور غذا لوگوں کو زیادہ کھانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ جسمانی وزن میں کمی بھی لاتی ہے۔
مرچیں جسم میں جاکر معدے کو بھر دیتی ہیں اور ایسے اعصاب کو سرگرم کردیتی ہیں جو جسم کو کہتے ہیں کہ بہت کھالیا اور زیادہ کھایا ممکن نہیں رہتا۔تحقیق کے مطابق مرچوں میں جسم میں ریسیپٹر سرگرم ہوجاتے ہیں جو پیٹ بھرنے کے سگنل دماغ کو بھیجتے ہیں۔محقق پروفیسر ایمنڈا پیج نے بتایا کہ مرچیں پیٹ بھرنے کا احساس بڑھا دیتی ہیں اور یہ سرگرمی کسی بھی قسم کی مرچ کھانے سے شروع ہوجاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جسمانی وزن سے پریشان افراد اگر مرچوں کا استعمال زیادہ کرنے لگے تو وہ خودبخود کم غذا استعمال کرنے لگتے ہیں اور اس سے موٹاپے پر قابو پانے کے حوالے سے نئے طریقہ علاج کو تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ اب ہم اس تحقیق میں ریسپٹرز کی سرگرمیوں کی تحقیقات کریں گے تاکہ موٹاپے کی وباءپر قابو پانے کے لیے موثر حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…