لاہور (نیوزڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے قصور سکینڈل کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کے لئے دائر درخواست پر حکومت پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوارالحق نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قصور میں سینکڑوں بچوں کو نشانہ بنایا گیا مگر مقامی پولیس نے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بجائے ملزمان کا ساتھ دیا جس سے قصور کے شہری سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے۔درخواست گزار کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کی استدعا کی گئی ۔ جس پر فاضل عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکومت پنجاب کی جانب سے معاملے کی انکوائری کے لئے ٹربیونل بنانے کی استدعا مسترد کر دی ہے ،عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ کس قانون کے تحت درخواست پر کمیشن بنانے کی ہدایت کی جائے۔جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ حکومت پنجاب اس معاملے کو لٹکانے کے لئے عدالتی ٹربیونل قائم کرنے کا اعلان کر چکی تھی۔ کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کرئے کہ پولیس نے اس معاملے کو کیوں دبائے رکھا تاکہ اصل حقائق واضح ہو سکیں۔فاضل عدالت نے درخواست گزار کا تفصیلی موقف سننے کے بعد حکومت پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18ستمبر کو جواب طلب کر لیا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
چین جائیں
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
وزیراعظم اپنا گھراسکیم کا دائرہ وسیع، نان بینکنگ کمپنیاں بھی پروگرام میں شامل
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
غیر ملکی خاتون نے لاہور میں ہولناک کرپٹو اغوا اور زیادتی کا واقعہ سنا دیا
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
نجی ٹی وی کی اینکر نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
-
زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے نکالے جانے پر باپ نے چلڈرن ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
لاہور میں غیرملکی خواتین سے متعلق پولیس کے دعوے مشکوک ہوگئے



















































