پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

چوہدری شجاعت حسین کا خط غیر قانونی ہدایات پر مبنی تھا،ق لیگ نے الیکشن کمیشن کے حکم امتناعی کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 6  اگست‬‮  2022 |

لاہور (آن لائن)مسلم لیگ(ق) کے رہنما کامل علی آغا نے نئے سربراہ کے انتخابی شیڈول پر الیکشن کمیشن کے حکم امتناعی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔صفدر شاہین پیرزادہ کے توسط سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلی

کے انتخاب کے موقع پر پارٹی سربراہ شجاعت حسین نے خط ڈپٹی سپیکر کو لکھا۔چوہدری شجاعت حسین کا خط غیر قانونی ہدایات پر مبنی تھا، پارٹی کارکنوں نے اس خط کے خلاف شجاعت حسین کے گھر کے باہر بھر پور احتجاج کیا۔پارٹی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی نے اجلاس میں شجاعت حسین کی ہدایات کو غیرجمہوری عمل قرار دیتے ہوے انہیں پارٹی سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا۔مرکزی ورکنگ کمیٹی نے پارٹی کے نئے سربراہ کے انتخاب کے لئے دس اگست کا انتخابی شیڈول جاری کیا،الیکشن کمیشن نے چوہدری شجاعت کی درخواست پر انتخابی عمل روکتے ہوئے حکم امتناعی جاری کردیا۔الیکشن کمیشن نے مرکزی مجلس عاملہ نہ ہونے کے جواز پر غیر قانونی حکم دیا،اگرالیکشن کمیشن کے جواز کو تسلیم کرلیا جائے تو چوہدری شجاعت کیسے پارٹی سربراہ برقرار رہ سکتے ہیں۔ کامل علی آغا نے نئے سربراہ کے انتخابی شیڈول پر الیکشن کمیشن کے حکم امتناعی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل روکنے کا اقدام غیر قانونی ہے لہٰذاعدالت الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…