ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

شہباز حکومت کو آخری دھچکا دینے کی تیاریاں ،عمران خان نے بڑا فیصلہ کرلیا، فواد چوہدری کی تصدیق

datetime 2  جولائی  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی مستقبل قریب میں وزیر اعظم شہباز شریف سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ایک ذریعے نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی یعنی عمران خان، دس سے زائد اتحادیوں پر مشتمل شہباز حکومت کو آخری دھچکا دینے کے لیےاس پر سنجیدگی سےغور و خوض کر رہے ہیں ۔

اس کا مقصد قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کے لیے سیاسی بحران پیدا کرنا ہے۔پی ٹی آئی کے ترجمان اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے رابطہ کرنے پر اس معاملے پر پارٹی کی مشاورت کی تصدیق کی۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق انہوں نے رابطہ پر بتایا کہ چند ہفتوں میں پی ٹی آئی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے باضابطہ طور پر مطالبہ کرے گی کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے کچھ اتحادیوں سے رابطے میں ہے۔شہباز شریف حکومت میں اہم اتحادیوں کے خلاف اے این پی اور ایم کیو ایم کے غصے کا حوالہ دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ صدر کی طرف سے وزیر اعظم کو دو ہفتوں میں اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔اس کیس میں آئین کا آرٹیکل 91(7) متعلقہ ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم ، صدر کی خوشنودی کے دوران عہدے پر فائز رہے گا لیکن صدر اس شق کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرے گا تاوقت یہ کہ اسے اطمینان نہ ہو کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے۔

جس صورت میں وہ قومی اسمبلی کو طلب کرے گا اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا حکم دے گا۔اس ضمن میں جب سیاست دان اور آئینی ماہر وسیم سجاد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ جب صدر ، وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہتا ہے تو اسے ایوان کے مجموعی ارکان کی اکثریت کا ووٹ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جو موجود ہوتے ہیں ان کے اکثریت کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مجموعی ارکان کی اکثریت سے ووٹ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، آرٹیکل 91(7) میں صرف موجود ارکان کی اکثریت کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔ آرٹیکل 91(4) وزیراعظم کے انتخاب سے متعلق ہے۔ اس آرٹیکل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مجموعی ارکان کی اکثریت کا ووٹ، آرٹیکل 91(4) میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم قومی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد کی اکثریت رائے دہی کے ذریعے نامزد کیا جائے گا۔

مگر شرط یہ ہے کہ اگر کوئی رکن پہلی رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پہلے دو اراکین کے درمیان میں دوسری رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا اور وہ رکن جو موجود اراکین کی اکثریت رائے دہی حاصل کرلیتا ہے اس کا منتخب وزیراعظم کے طور پر اعلان کیا جائے گا۔مزید شرط یہ ہے کہ اگر دو یا زائد اراکین کی جانب سے حاصل کردہ ووٹ کی تعداد مساوی ہوجائے تو ان کے درمیان مزید رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا ، تاوقت یہ کہ ان میں سے کوئی ایک سب سے زیادہ حق رائے دہی حاصل نہ کرلے۔



کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…