کراچی (این این آئی)چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے تمام ڈویژنل کمشنرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے وہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کر کے بھاری جرمانہ اور طویل عرصے تک کاروبار سیل کریں۔ یہ بات انہوںنے صوبے میں
ضروری اشیا کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں کمشنر کراچی محمد اقبال میمن، سیکریٹری خوراک راجا خرم شہزاد ، سیکریٹری ایگریکلچر سپلائی ائنڈ پرائیز اعجاز احمد مہیسر سمیت دیگر شریک جب کے کمشنر حیدرآباد، کمشنر سکھر، کمشنر شہید بینظیر آباد اور کمشنر لاڑکانہ نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈویژنل کمشنرز نے قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے مئی کے مہینے میں کی گئی کارروائیوں کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کے صوبے میں مئی کے مہینے میں 10371 دوکانو کا دورہ کر کے 1137 پر 34 لاکھ 16 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ کراچی میں 672 منافع خوروں پر 29 لاکھ 62 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا، حیدرآباد ڈویژن میں 200 دکانوں پر 342500 جرمانہ عائد کیا گیا، لاڑکانہ میں 62 دوکانداروں پر 21 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا، میرپور خاص میں 27 دوکانداروں پر 15 ہزار شہید بینظیر آباد میں 100 دکانداروں پر 53 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کے منافع خوروں پر بھاری جرمانہ عائد اور طویل عرصے تک کاروبار سیل کی جائے۔ انہوںنے ہدایت کرتے ہوئے کہا کے کمشنرز منافع خوروں کے خلاف ایکشن کو خود مانیٹر کریں۔ انہوںنے کمشنر کراچی کو فلور مل ایسوسیشن کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کے شہر میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے
پھر بھی شہر میں آٹے کی قیمت دیگر شہروں سے زیادہ کیوں ہے۔ انہوںنے کہا کے ہر صورت کراچی میں آٹے، گھی اور چینی کی قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے۔ انہوںنے کہا کہ وہ آٹے اور گھی کی ذخیرہ اندوزی کی شکایات موصول ہوئی ہیں اب کمشنر کراچی خود آٹے اور گھی کے زخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کریں، کسی بھی مل اور سوپر اسٹور میں زخیرہ اندوزوں نہیں ہونی چاہئے۔



















































