اسلام آباد (این این آئی)حکومتی و اپوزیشن اراکین سینٹ نے بھارتی رہنمائوں کی طرف سے توہین رسالت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناموس رسالت ؐپر ہماری جان بھی قربان ہے، بی جے پی کا اقدام مسلمانوں پر حملہ ہے،بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے،
او آئی سی اجلاس میں ناموس رسالت پر وارتنگ دی جائے۔ پیر کو سینٹ اجلاس کے دور ان بھارت کی جانب سے ناموس رسالت کے معاملے پر ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کاہکہ جب معاملہ ناموسِ رسالت کا ہو تو ہم سب ایک ہیں اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی منظور کی جائے۔ ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ ناموس رسالت پر ہماری جان بھی قربان ہے، بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ بی جے پی کا یہ اقدام مسلمانوں پر حملہ ہے،یہ اقدام تیسری جنگ عظیم کے مترادف ہے،60 مسلم ممالک ناموس رسالت ؐپر جواب دیں ،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے،او آئی سی اجلاس میں ناموس رسالت پر وارننگ دی جائے۔چیئر مین سینٹ نے کہاکہ ناموس رسالت ؐپر ایوان سے متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کروائی جائے گی،میرے دستخط کے ساتھ قرارداد کی کاپی اقوام متحدہ کے دفتر جمع کروائی جائے گی،ایوان بالا کا تین رکنی وفد اقوام متحدہ کے دفتر جاکر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے گا۔ اجلاس کے دور ان سینیٹر اعجاز چودھری نے کہاکہ پاکستان کی ایک سیاسی فیملی کے ساتھ بھارت اور نریندرمودی کے ساتھ ذاتی تعلقات ہیں ،اس واقعہ کے بعد بی جے پی اور نریندرمودی کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔سینیٹر آصف کرمانی نے کہاکہ سینیٹر اعجاز چوہدری نے نریندرمودی کے نوازشریف سے تعلقات جوڑنے کی کوشش کی،
واضح کردوں نریندرمودی ضد کرکے پاکستان آیا،عمران خان نے بھی نریندرمودی کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی۔سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہاکہ عمران خان نے اقوام متحدہ میں ناموس رسالت ؐکا بھرپور مقدمہ اٹھایا ،عمران خان کے اس اقدام کے بعد اسلامو فوبیا کا عالمی دن منایا گیا ،کاش آج عمران خان آج پاکستان کے وزیراعظم ہوتے تو پتا چل جاتا،اس معاملے کے بعد ہمارے وزیر خارجہ نظر نہیں آرہے ،اسوقت تک دفتر خارجہ کو اقدامات اٹھانے
چاہئیں تھے۔ سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ ناموس رسالت ؐسے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے،اس قدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے،بی جے پی نے یہ حرکت کشمیر کے ایشو سے توجہ ہٹانے کے لیے کی۔ سینیٹر عطاء الرحمن نے کہاکہ میری تجویز ہے توہین رسالت پر ایوان بالا کے ممبران پارلیمنٹ ہاؤس سے بھارتی سفارتخانے تک ریلی نکالی جائے۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ جمعہ کی نماز کے بعد ایوان بالا کے ممبران پارلیمنٹ
ہاؤس سے بھارتی سفارتخانے جاکر احتجاج ریکارڈ کروائے گی، چئیرمین سینیٹ کی رولنگ۔سینیٹر دنیش کمار نے کہاکہ بی جے پی رہنماوں کے توہین آمیز کلمات سے جہاں مسلمانوں کے دل دکھی ہوئے ہیں، اس عمل سے ہم غیر مسلم سینیٹرز کے دل بھی دکھی ہوئے ہیں، یہ بی جے پی کا بیانیہ ہے ہندو مذہب کا بیانیہ نہیں ہے، یہ انکی سوچ ہے اس کو ہم مذہب سے نہیں ملاتے،ہمارا مذہب اس طرح کا پیغام نہیں دیتا،جب آپ بھارتی سفارتخانے جائیں تو میں
سربراہی کرکے بھارت کو واضح پیغام دوں گا،اس عمل سے مجھے بہت دکھ ہوا میں رویا ہوں۔اس موقع پر پینل آف چئیر سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹ اجلاس کی صدرات سنبھال لی۔سینیٹر کامران مائیکل نے کہاکہ نریندرمودی کے ترجمان کیجانب سے توہین رسالت پر بھرپور الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،پوری مسیحی برادری اس اقدام کی مذمت کرتی ہے،ماضی میں بھی ہم نے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی،ہم نے عیدیں اور دیوالی اکٹھے منائیں



















































